حدیث نمبر: 5004
٥٠٠٤ - حدثنا جرير عن يزيد عن عطاء قال: قال رجل لابن عباس: إني نمت في المسجد الحرام فاحتلمت فقال: أما (أن) (١) تتخذه مبيتا أو مقيلا فلا وأما أن تنام تستريح أو تنتظر حاجة فلا بأس (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں بعض اوقات مسجد میں سوجاتا ہوں اور مجھے احتلام ہوجاتا ہے تو کیا مسجد میں سونا جائز ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مسجد کو رات گذارنے اور قیلولہ کرنے کی جگہ بنانا تو جائز نہیں۔ البتہ کچھ دیر کے لیے آرام کرنا یا کسی کام کا انتظار کرنا جائز ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ب].