حدیث نمبر: 4979
٤٩٧٩ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن زائدة عن سماك عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن عبد اللَّه قال سرينا ذات ليلة مع رسول اللَّه ﷺ قال: فقلنا يا رسول اللَّه لو (أمسستنا) (٢) الأرض فنمنا (ورعت) (٣) ركابنا قال: "فَمَنْ ⦗٤٦⦘ يَخرُسُنا؟ " قال: قلت: أنا، (فغلبتني) (٤) (عيني) (٥) فلم يوقظنا إلا (وقد) (٦) طلعت الشمس ولم يستيقظ رسول اللَّه ﷺ إلا بكلامنا قال: فَأَمْرَ بِلَالًا فَأْذَّنَ وَأَقَامَ (فصلى بنا) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ ایک رات ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر کیا۔ ایک جگہ پہنچ کر ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر ہم کچھ دیر کے لیے پڑاؤ ڈال لیں تو ہم کچھ دیر سوجائیں گے اور ہماری سواریاں چر لیں گے۔ چناچہ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا پہرہ کون دے گا ؟ میں نے کہا میں پہرہ دوں گا۔ لیکن مجھے نیند آگئی اور ہم اس وقت سو کر اٹھے جب سورج طلوع ہوچکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہماری باتوں کی وجہ سے بیدار ہوئے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان اور اقامت کہی اور آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی۔

حواشی
(١) في [أ] ورد (بشير).
(٢) في [أ]: (أمستنا)، وفي [ب]: (أمسسنا)، وفي [هـ]: (أمسسيتنا).
(٣) في [أ]: (ودعت)، وفي [ك]: (ودعب).
(٤) في [هـ]: (فغلبن).
(٥) في [ط، هـ]: (عيناي).
(٦) في [جـ، ك]: (وقت).
(٧) سقط: في [ب] (فصلى بنا).
(٨) منقطع حكمًا، أخرجه أحمد (٤٣٠٧)، وأبو داود (٤٤٧)، وابن حبان (١٥٨٠)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والبزار (٣٩٩)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والطحاوي ١/ ٤٦٥، وا لشاشي (٨٣٩)، والبيهقي (٢/ ٢١٨)، والطبري ٢٦/ ٦٩ سورة الفتح، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٤)، والمزي في ترجمة (عبد الرحمن بن علقمة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4979
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4979، ترقيم محمد عوامة 4927)