مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الصلاة في الكنائس والبيع باب: کیا آدمی نماز پڑھتے ہوئے دیوار سے سہارا لے سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 4957
٤٩٥٧ - حدثنا ملازم بن عمرو عن عبد اللَّه بن بدر عن قيس بن طلق عن أبيه طلق بن علي قال: خرجنا وفدا إلى النبي ﷺ فأخبرناه أن بأرضنا بيعة لنا فاستوهبناه فضل طهوره فدعا بماء (١) فتوضأ ثم (مضمض) (٢) ثم جعله لنا في (إداوة) (٣) فقال: "اخْرُجُوا بهِ مَعَكُمْ فَإِذا قَدِمْتُمْ بَلَدَكُمْ فَاكْسِرُوا بيْعَتَكُمْ وَانْضَحُوا مَكَانَهَا بالْمِاءِ واتَّخِذُوهَا مَسْجِدًا" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک وفد کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے عرض کیا کہ ہماری سرزمین میں ایک گرجا ہے۔ ہم نے اسے پاک کرنے کے لئے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی مانگا۔ آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور پھر کلی کی اور بچا ہوا پانی ہمارے ایک برتن میں رکھ کر فرمایا کہ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ، جب تم اپنے علاقے میں پہنچو تو اپنے گرجے کو گرا دو اور اس جگہ یہ والا پانی چھڑکو اور اس جگہ کو مسجد بنالو۔
حواشی
(١) زيادة: في [جـ، ك] (فتمضمض).
(٢) في [د]: (تمضمض).
(٣) في [أ]: (إدارة).