حدیث نمبر: 4905
٤٩٠٥ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعد بن إسحاق عن سعيد بن أبي (سعيد عن أبي) (١) ثمامة (القماح) (٢) قال: لقيت كعبا وأنا بالبلاط قد أدخلت بعض أصابعي في بعض فضرب يدي ضربا شديدا وقال: نهينا أن نشبك بين أصابعنا في الصلاة (فقلت) (٣) له: يرحمك اللَّه تراني في صلاة فقال: من توضأ فعمد إلى ⦗٣٢⦘ المسجد فهو في صلاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ثمامہ قماح کہتے ہیں کہ مقام بلاط میں ، میں حضرت کعب سے ملا، میں نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کیا تو انہوں نے میرے ہاتھ پر زور سے مارا اور فرمایا کہ ہمیں نماز میں انگلیاں چٹخانے سے منع کیا گیا ہے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ! آپ کیا مجھے نماز میں دیکھ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ جو شخص وضو کرکے نماز کے ارادے سے نکلتا ہے وہ نماز میں ہوتا ہے۔

حواشی
(١) زيادة في [جـ، ك]: (سعيد عن أبي).
(٢) في [أ]: (القمام).
(٣) في [أ، جـ، ك]: (قال: قلت).
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي ثمامة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4905
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4905، ترقيم محمد عوامة 4861)