مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
(من رخص في الفتح على الإمام) باب: اگر کسی آدمی کو نماز میں سلام کیا جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 4878
٤٨٧٨ - حدثنا أبو أسامة عن مساور قال: (حدثنا) (١) هلال بن أبي حميد قال: كنت أفتح على عبد اللَّه بن (عكيم) (٢) إذا تعايا في الصلاة، فقال لي يوما: (أما) (٣) صليت معنا؟ قال: فقلت: لا، قال: قد (استنكرت) (٤) ذلك، ترددت البارحة فلم أجد (أحدًا) (٥) يفتح علي.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہلال بن ابی حمید فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عکیم جب نماز میں بھولتے تو میں ان کو لقمہ دیا کرتا تھا ۔ ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تبھی تو رات کو مجھے بہت تکلیف ہوئی، مجھے ایک مقام پر شک ہوا لیکن مجھے لقمہ دینے والا کوئی نہ تھا ؟ !
حواشی
(١) في [أ، ب، ك]: (حدثني)، وفي [جـ]: (نا).
(٢) في [هـ[: (حكيم).
(٣) في [ب]: (ما).
(٤) في [ط، هـ]: (اشتكوت)، وفي [جـ]: (استكثرت).
(٥) في [ب، ط، هـ]: (من).