مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
(في الرجل) يصلي بالقوم الظهر والعصر باب: ایک آدمی حضر میں کچھ نمازیں پڑھنا بھول جائے اور اسے وہ سفر میں یاد آئیں تو وہ انہیں کیسے ادا کرے؟
٤٨٤٩ - حدثنا محمد بن عبد اللَّه (الأسدي) (١) عن إسرائيل عن جابر قال: سألت أبا جعفر وسالما والقاسم وعطاء عن رجل دخل مع قوم في العصر وهو يرى أنها الظهر قالوا: ينصرف فيصلي الظهر وتجزئ عنه العصر قال: (و) (٢) سألت عامرا ومسلم بن صبيح فقالا: ينصرف فيصلي الظهر ثم يصلي العصر فإن اللَّه قد كتبها عنده قبل العصر (فلا) (٣) تكون له الظهر.حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر، حضرت سالم، حضرت قاسم اور حضرت عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ظہر کی نماز سمجھتے ہوئے کسی جماعت میں داخل ہو لیکن وہ لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد ظہر کی نماز پڑھے گا البتہ اس کی عصر کی نماز ہوجائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عامر، حضرت مسلم بن صبیح سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ فارغ ہو کر پہلے ظہر کی نماز پڑھے گا پھر عصر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظہر کو عصر سے پہلے فرض کیا ہے۔ لہٰذا ظہر کی نماز عصر کے بعد نہیں ہوسکتی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت حماد اور ابراہیم کی بھی یہی رائے ہے۔