حدیث نمبر: 4827
٤٨٢٧ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن سعد (بن) (١) إسحاق عن عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب عن أبيه قال: نمت عن الفجر حتى طلع قرن الشمس، ونحن خارفون (٢) في مال لنا، فملت إلى شربة (٣) من النخل (٤) أتوضأ قال: (فبصر بي) (٥) أبي فقال: ما شأنك؟ قلت: أصلي قد توضأت، فدعاني فأجلسني إلى جنبه (٦) فلما أن تعلت الشمس وابيضت وأتيت المسجد ضربني قبل أن أقوم إلى الصلاة (و) (٧) قال: تنسى؟ صل الآن (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الملک بن کعب فرماتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے وقت سو گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس وقت ہم پھل چننے کے لئے اپنی ایک زمین میں تھے۔ میں کھجور کے ایک درخت کے پاس وضو کرنے کے لئے گیا تو میرے والد نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ میں وضو کرکے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ جب سورج بلند ہوگیا اور سفید ہوگیا۔ تو انہوں نے میرے نماز شروع کرنے سے پہلے مجھے مارا اور فرمایا کیا تو بھول گیا تھا ؟ اب نماز پڑھ۔

حواشی
(١) في [أ، د، هـ]: ورد (عن أبي).
(٢) في [ك]: (خالفون)، وفي [أ]: (عارفون).
(٣) في [أ]: زيادة (لنا).
(٤) في [ب]: (النحل)، وكذا في [أ].
(٥) في [أ]: (فبصرني).
(٦) في [ك]: زيادة (وجهه).
(٧) سقط من: [ب، س، ط، هـ].
(٨) مجهول؛ لجهالة عبد الرحمن بن عبد الملك بن كعب بن عجرة، أخرجه ابن المنذر في الأوسط ٢/ ٤٠٩ (١١٢٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4827
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4827، ترقيم محمد عوامة 4787)