مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل يفوته وتر من صلاة الإمام باب: اگر کسی آدمی کی امام کے ساتھ سے کوئی رکعت فوت ہو جائے اور وہ اسے یاد نہ رہے، بعد میں یاد آئے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4755
٤٧٥٥ - حدثنا ابن علية قال: سئل يونس عن الرجل يدرك من صلاة القوم ركعة أو تفوته ركعة قال: كان الحسن ومحمد لا يريان عليه سجودًا.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن علیہ کہتے ہیں کہ یونس سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی جماعت سے ایک رکعت چھوٹ جائے یا اسے ایک رکعت ملے، تو کیا وہ سجدۂ سہو کرے گا ؟ انہوں نے فرمایا کہ حسن اور محمد ایسے شخص پر دو سجدوں کے وجوب کے قائل نہ تھے۔