حدیث نمبر: 4729
٤٧٢٩ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل (عن) (٢) قيس عن أبي مسعود قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إني لأتأخر عن صلاة الغداة مما يطيل فلان فيها قال: فقام رسول اللَّه ﷺ فما رأيته في موعظة أشد منه غضبا يومئذ فقال: "أَيها النَّاسُ إِنَّ (فِيكُمْ) (٣) (مُنَفِّرِين) (٤) فَأَيُّكُمْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُجَوِّزْ فَإِنَّ فِيهُمْ (الضَّعِيَف) (٥) وَالْكَبيرَ وَذا الْحَاجَةِ" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مسعود فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا کہ میں فجر کی نماز سے اس لئے رہ جاتا ہوں کہ فلاں شخص بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ! اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعظ کے لئے کھڑے ہوئے اور میں نے آپ کو کسی وعظ کے دوران اتنے غصے میں نہیں دیکھا جتنا اس دن دیکھا۔ آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ” اے لوگو ! تم میں سے کچھ دین سے لوگوں کو متنفر کرنے والے ہیں، تم میں سے جو کوئی نماز پڑھائے تو مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ لوگوں میں کمزور، بوڑھے اور کسی کام کی جلدی میں مبتلا آدمی بھی ہوتے ہیں “

حواشی
(١) في [أ، ب] سقط: (وكيع).
(٢) في [أ، ب، هـ، جـ]: (بن).
(٣) في [أ]: (فيهم).
(٤) في [أ]: (متفرقين).
(٥) في [جـ]: (الصغير).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / سجود السهو والعمل في الصلاة / حدیث: 4729
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٩٠) ومسلم (٤٦٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4729، ترقيم محمد عوامة 4691)