مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
من كره الالتفات في الصلاة باب: جو حضرات اس بات کی رخصت دیتے ہیں کہ نماز میں نظر گھما کر دیکھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 4608
٤٦٠٨ - حدثنا غندر (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: سمعت أبا هريرة يقول: إذا صليت فإن ربك أمامك وأنت مناجيه فلا تلتفت (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھتے ہو تو تمہارا رب تمہارے سامنے ہوتا ہے اور تم اس سے سرگوشی اور باتیں کرتے ہو اس لئے ادھر ادھر متوجہ مت ہوا کرو۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو کس طرف متوجہ ہوتا ہے ؟ میں ہر اس چیز سے بہتر ہوں جس کی طرف تو متوجہ ہوتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ]: (عندر).
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.