مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الرجل يتوضأ أو يغتسل، فينسى اللمعة من جسده باب: اگر وضو یا غسل کرتے وقت آدمی کے جسم کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 449
٤٤٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن حجاج عن (عطاء) (١) عن عبيد بن عمير: أن عمر بن الخطاب رأى رجلا في رجله لمعة لم يصبها الماء حين (تطهر) (٢)، ⦗٩٣⦘ فقال له عمر: بهذا الوضوء تحضر الصلاة؛ وأمره أن يغسل اللمعة ويعيد الصلاة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک آدمی کو دیکھا جس کا پاؤں وضو کرتے وقت ایک جگہ سے خشک رہ گیا تھا، آپ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم اس وضو کے ساتھ نماز پڑھو گے۔ پھر اسے حکم دیا کہ اس خشک جگہ کو دھو کر نماز پڑھے۔
حواشی
(١) سقط من: [خ].
(٢) فى [هـ]: (يطهر) بالياء.
(٣) منقطع حكمًا؛ حجاج مدلس، أخرجه الدارقطني (٣٨٥) وأصله في مسلم (٢٤٣).