مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
في الرجل يصلي (فلا يدري) زاد أو نقص باب: کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے؟
٤٤٦٥ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم عن علقمة (عن) (١) عبد اللَّه قال: صلى رسول اللَّه ﷺ صلاة فزاد أو نقص فلما سلم وأقبل على القوم بوجهه قالوا: يا رسول اللَّه حدث في الصلاة شيء قال: "ومَا [ذاكَ؟ " (قالوا) (٢): صليت كذا وكذا، فثنى رجله فسجد سجدتين ثم سلم وأقبل على القوم بوجهه فقال: "إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيءٌ] (٣) أَنْبَأتكمْ بِهِ وَلَكِنِّي بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسُونَ فَإِذا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي فَإِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ (فَلْيَتَحَرَّ) (٤) الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيهِ فَإِذَا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ" (٥).حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی، اس میں اضافہ کردیا یا کمی فرمادی۔ جب آپ سلام پھیر کو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے پوچھا کیوں، کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسی ایسی نماز پڑھائی ہے۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی وقت اپنے قدموں کو موڑا اور دو سجدے فرمائے۔ پھر سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اگر نماز کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتاتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں، جیسے تم بھولتے ہو ایسے میں بھی بھول سکتا ہوں۔ جب میں نماز میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرادیا کرو۔ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی بھول چوک ہوجائے تو غور وفکر کرکے جو بات درست لگے اس پر عمل کرلے۔ پھر جب سلام پھیرے تو دو سجدے کرلے۔