مصنف ابن ابي شيبه
سجود السهو والعمل في الصلاة
الرجل ينسى السجدة من الصلاة (فيذكرها) وهو يصلي باب: یک آدمی نماز کا سجدہ تلاوت کرنا بھول جائے اور اسے دوسری نماز میں یاد آئے تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 4463
٤٤٦٣ - حدثنا معتمر عن ليث عن مجاهد في الرجل يشك في سجدة وهو جالس لا يدري (سجدها) (١) أم لا قال مجاهد: إن شئت فاسجدها (فإذا قضيت صلاتك فاسجد سجدتين وأنت جالس) (٢) وإن شئت فلا تسجدها وأسجد سجدتين وأنت جالس في آخر صلاتك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کو اس بارے میں شک ہوجاتا ہے کہ اس نے سجدہ کیا یا نہیں، اب وہ بیٹھا ہوا ہے تو کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو سجدہ کرلو پھر جب نماز مکمل کرچکو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے سہو کے کرلو۔ اور اگر تم چاہو تو سجدہ نہ کرو اور نماز کے آخر میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلو۔
حواشی
(١) في [أ]: (أسجدها).
(٢) في [أ، ب]: (سقط ما بين القوسين).