مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
الرجل يقرأ السجدة وهو يطوف بالبيت باب: کوئی شخص خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے آیت سجدہ پڑھے تو سجدہ کیسے کرے؟
٤٤٤٤ - حدثنا إسماعيل بن علية عن حاتم بن أبي صغيرة قال: قلت لعبد اللَّه بن أبي مليكة قرأت السجدة وأنا أطوف بالبيت فكيف ترى قال: آمرك أن تسجد، قلت: إذا (يركبني) (١) الناس؛ وهم يطوفون، فيقولون: مجنون، أفأستطيع أن أسجد وهم يطوفون؟ فقال: واللَّه، لئن قلت ذلك، لقد قرأ ابن الزبير السجدة فلم يسجد، فقام الحارث بن أبي ربيعة فقرأ السجدة ثم جاء فجلس، فقال: يا أمير المؤمنين، ما منعك أن تسجد قبيل حيث قرأت السجدة؟ فقال: لأي شيء أسجد! إني لو كنت في صلاة سجدت، فأما (إذا) (٢) لم أكن في صلاة فإني لا أسجد.حضرت حاتم بن ابی صغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے سوال کیا کہ اگر میں دورانِ طواف آیت سجدہ پڑھوں تو سجدہ کروں یا نہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر لوگ دورانِ طواف مجھے سجدہ کرتے دیکیں ص گے تو مجھے پاگل کہیں گے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ طواف کررہے ہوں اور میں سجدہ کروں ؟ ! انہوں نے کہا اگر یہ بات ہے تو سن لو کہ حضرت ابن زبیر نے ایک مرتبہ آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ نہیں کیا۔ پھر حضرت حارث بن ابی ربیعہ نے آیت سجدہ پڑھی اور آکر کہنے لگے اے امیر المؤمنین ! ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے آیت سجدہ پڑھی تھی، لیکن آپ نے سجدہ کیوں نہیں کیا ؟ حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ میں کیوں سجدہ کروں ؟ جب میں نماز میں ہوتا ہوں تو سجدہ کرتا ہوں اور اگر میں نماز کے باہر آیت سجدہ کی تلاوت کروں تو سجدہ نہیں کرتا۔ حاتم بن ابی صغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عطاء سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے سر کو اشارے سے جھکا لو۔