مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
(في سجود القرآن وما يقرأ فيه) باب: قرآن مجید کے سجدوں میں کیا پڑھا جائے گا ؟
٤٤٣٨ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن عطاء بن السائب قال: دخلت المسجد فإذا أنا بشيخين يقرأ أحدهما على صاحبه القرآن فجلست إليهما فإذا أحدهما قيس بن سكن الأسدي والآخر يقرأ عليه سورة مريم فلما بلغ السجدة قال له قيس: دعها فإنا نكره أن (يرانا) (٢) أهل المسجد فتركها وقرأ ما بعدها ثم قال قيس: واللَّه ما صرفنا عنها إلا الشيطان اقرأها فقرأها فسجدنا فلما رفعنا رؤوسنا قال له قيس: تدري ما كان رسول اللَّه ﷺ يقول إذا سجد؟ قال: نعم كان يقول: "سَجَدَ وَجْهِي لِمَنْ خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرهُ"، قال: صدقت وبلغني أن داود ﵇ (٣) كان يقول: سجد وجهي متعفرا في التراب لخالقي وحق له ثم قال: سبحان اللَّه ما ⦗٤٥٩⦘ أشبه كلام الأنبياء بعضهم (ببعض) (٤) (٥).حضرت عطاء بن سائب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوا تو دو بوڑھے آدمی بیٹھے تھے، جن میں سے ایک دوسرے کو قرآن مجید پڑھا رہا تھا۔ میں بھی ان کے پاس بیٹھ گیا۔ ان میں سے ایک حضرت قیس بن سکن اسدی تھے، دوسرے آدمی ان سے سورة مریم پڑھ رہے تھے۔ جب وہ آیت سجدہ پر پہنچے تو قیس بن سکن نے کہا کہ اسے چھوڑ دو ، ہم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مسجد والے ہمیں دیکھیں۔ انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بعد والا حصہ پڑھا۔ پھر حضرت قیس نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس آیت کے چھوڑنے پر ہمیں شیطان نے ابھارا تھا۔ اسے پڑھو۔ چناچہ انہوں نے پڑھا اور ہم نے سجدہ کیا۔ جب ہم نے اپنے سر اٹھائے تو حضرت قیس نے کہا کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سجدہ تلاوت کرتے تھے تو کیا کہتے تھے ؟ انہوں نے کہا ہاں، رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہتے تھے : میرے چہرے نے اس ذات کے لئے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے سماعت وبصار ت سے سرفراز فرمایا۔ حضر ت قیس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضر ت داؤد اپنے سجدوں میں یہ کہا کرتے تھے : میرے چہرے نے مٹی میں لپٹتے ہوئے میرے خالق کو سجدہ کیا اور اس کا حق کے لئے وہ اس ذات کو سجدہ کرے۔ پھر فرمایا کہ سبحان اللہ ! انبیاء کا کلام ایک دوسرے کے کتنا مشابہ ہے۔