مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
من كان يقول لا يجسدها ويكره أن يقرأها في ذلك الوقت باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وہ سجدہ نہ کرے اور وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت میں آیت سجدہ کی تلاوت کرے
حدیث نمبر: 4404
٤٤٠٤ - حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن سوقة (عن نافع) (١) عن ابن عمر أنه سمع قاصا يقرأ السجدة قبل أن تحل الصلاة فسجد القاص ومن معه فأخذ ابن ⦗٤٥٠⦘ عمر بيدي فلما أضحى قال لي: (يا) (٢) نافع اسجد بنا السجدة التي سجدها القوم في غير حينها (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک آدمی کو نماز کے حلال ہونے سے پہلے آیت سجدہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ اس پر اس نے بھی سجدہ کیا اور اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔ حضرت عمر نے میرا ہاتھ پکڑا ، جب چاشت کا وقت ہو اتو انہوں نے فرمایا اے نافع ! آؤ وہ سجدہ کریں جو ان لوگوں نے بےوقت کیا تھا۔
حواشی
(١) زيادة: في [أ، جـ، ك].
(٢) زيادة في [أ، جـ، ك].