مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
من كان يقول لا يجسدها ويكره أن يقرأها في ذلك الوقت باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ وہ سجدہ نہ کرے اور وہ اس بات کو مکروہ خیال فرماتے ہیں کہ آدمی اس وقت میں آیت سجدہ کی تلاوت کرے
حدیث نمبر: 4403
٤٤٠٣ - حدثنا ابن مهدي عن (سليم) (١) بن حيان عن أبي غالب أن أبا أمامة كان يكره الصلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس وبعد الفجر حتى تطلع الشمس وكان أهل الشام يقرؤون السجدة (بعد العصر) (٢) فكان أبو أمامة إذا رأى أنهم يقرؤون سورة فيها سجدة بعد العصر (لم) (٣) يجلس معهم (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو غالب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور فجر کے بعد سورج طلوع ہونے تک نماز کو مکروہ خیال فرماتے تھے۔ اہلِ شام عصر کے بعد آیت سجدہ پڑھتے ۔ ابو امامہ اگر ان میں سے کسی کو عصر کے بعد کوئی ایسی سورت پڑھتے ہوئے دیکھتے جس میں سجدہ تلاوت ہوتا تو ان کے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے۔
حواشی
(١) في [أ]: (سليمان).
(٢) سقط من: [أ].
(٣) في [أ]: (ثم).