حدیث نمبر: 4275
٤٢٧٥ - حدثنا عبد الأعلى (عن) (١) الجريري عن أبي (العلاء) (٢) عن مطرف قال سألته عن الرجل (يتمارى) (٣) في السجدة (أسمعها أم لم) (٤) يسمعها قال: وسمعها فماذا؟ ثم قال مطرف: سألت عمران بن (حصين) (٥) عن رجل لا يدري أسمع السجدة أم لا؟ قال: وسمعها فماذا؟ (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جسے آیت سجدہ کے بارے میں شک ہوگیا کہ اس نے سنی ہے یا نہیں سنی، تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا ؟ پھر حضرت مطرف نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمران بن حصنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا تھا جسے یہ شک ہوجائے کہ اس نے آیت سجدہ سنی ہے یا نہیں تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا۔

حواشی
(١) في [د، هـ]: (وعن).
(٢) في [أ]: (أبي العلي).
(٣) في [جـ، ك، أ]: (يتمادى).
(٤) (سمعها أو لم) في [أ].
(٥) في [ك]: (الحصين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / باب سجود التلاوة / حدیث: 4275
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4275، ترقيم محمد عوامة 4251)