مصنف ابن ابي شيبه
باب سجود التلاوة
من قال: السجدة على من جلس لها ومن سمعها باب: ہر سننے والے اور تلاوت کرنے والے کے پاس سننے کے لئے بیٹھنے والے پر بھی سجدہ لازم ہے
حدیث نمبر: 4275
٤٢٧٥ - حدثنا عبد الأعلى (عن) (١) الجريري عن أبي (العلاء) (٢) عن مطرف قال سألته عن الرجل (يتمارى) (٣) في السجدة (أسمعها أم لم) (٤) يسمعها قال: وسمعها فماذا؟ ثم قال مطرف: سألت عمران بن (حصين) (٥) عن رجل لا يدري أسمع السجدة أم لا؟ قال: وسمعها فماذا؟ (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء فرماتے ہیں کہ حضرت مطرف سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جسے آیت سجدہ کے بارے میں شک ہوگیا کہ اس نے سنی ہے یا نہیں سنی، تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا ؟ پھر حضرت مطرف نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمران بن حصنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا تھا جسے یہ شک ہوجائے کہ اس نے آیت سجدہ سنی ہے یا نہیں تو وہ کیا کرے ؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر وہ اسے سنتا تو کیا کرتا۔
حواشی
(١) في [د، هـ]: (وعن).
(٢) في [أ]: (أبي العلي).
(٣) في [جـ، ك، أ]: (يتمادى).
(٤) (سمعها أو لم) في [أ].
(٥) في [ك]: (الحصين).