مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله
ما (ذكر) في الخوارج باب: خوارج کا بیان
٤٠٧٤١ - حدثنا ابن نمير عن الأجلح عن سلمة بن كهيل عن كثير بن (نمر) (١) قال: بينا أنا في الجمعة وعلي بن أبي طالب (٢) على المنبر إذ (قام) (٣) رجل (فقال) (٤): لا حكم إلا للَّه، ثم قام آخر فقال: لا حكم إلا للَّه، ثم قاموا من نواحي المسجد يحكمون اللَّه فأشار بيده: اجلسوا، نعم لا حكم إلا للَّه، كلمة حق (يبتغى) (٥) بها باطل، حكم اللَّه ينتظر فيكم، (الآن) (٦) لكم عندي ثلاث خلال ما (كنتم) (٧)، معنا لن (نمنعكم) (٨) مساجد اللَّه أن يذكر فيها اسمه، ولا (نمنعكم) (٩) (فيئا) (١٠) ما كانت أيديكم مع أيدينا، ولا نقاتلكم حتى (تقاتلونا) (١١)، ثم أخذ في خطبته (١٢).حضرت کثیر بن نمر فرماتے ہیں کہ ہم جمعہ کی نماز پڑھ رہے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر تھے کہ ایک آدمی اٹھا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم قبول نہیں۔ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ پھر مسجد کے گوشوں سے مختلف لوگ کھڑے ہو کر یہی نعرہ لگانے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں ہاتھ سے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ اور فرمایا کہ بلاشبہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں، لیکن یہ کلمۂ حق ہے جس سے باطل کا ارادہ کیا گیا ہے۔ تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس تمہارے لئے تین رعایتیں ہیں جب تک تم ہمارے ساتھ ہو، ہم تمہیں اللہ کی مسجدوں سے منع نہیں کریں گے کہ ان میں اللہ کے نام کا ذکر کیا جائے، ہم تمہیں فیء سے بھی محروم نہیں کریں گے جب تک ہمارے اور تمہارے ہاتھ اکٹھے ہیں، ہم تم سے اس وقت تک قتال نہیں کریں گے جب تک تم ہم سے قتال نہ کرو۔ پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کردیا۔