حدیث نمبر: 4070
٤٠٧٠ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن أنس بن سيرين عن عبد الحميد بن المنذر (بن) (١) الجارود عن أنس بن مالك قال: صنع بعض عمومتي للنبي ﷺ طعاما فقال: إني أحب أن تأكل في بيتي وتصلي فيه، قال: فأتاه وفي البيت (فحل) (٢) من تلك (الفحول) (٣)، فأمر بجانب منه فكنس ورش، فصلى وصلينا معه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ایک پھوپھی نے نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا۔ اور کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور کھانا کھائیں۔ حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ وہاں ایک چٹائی پڑی ہے۔ آپ نے اس چٹائی پر جھاڑو پھیرنے اور پانی چھڑکنے کا حکم دیا، جب وہ صاف ہوگئی تو حضور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی اس پر نماز پڑھی۔
حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [أ، ب، ك]: (فجل)، وفي [جـ]: الفحل بفتح الفاء وسكون الحاء المهملة: حصير يتخذ من فحال النخل، وهو ما كان من ذكوره فحلا لإناثه.
(٣) في [ب، ك]: (الفجول).