حدیث نمبر: 40695
٤٠٦٩٥ - حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: لما سمع ابن عمر (بنجدة) (٢) قد أقبل وأنه يزيد المدينة وأنه يسبي النساء ويقتل الولدان، قال: إذن لا ندعه و (ذاك) (٣)، وهمَّ بقتاله وحرض الناس، (فقيل) (٤) له: إن الناس لا يقاتلون معك، ونخاف أن (تترك) (٥) وحدك، فتركه (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نجدہ کے بارے میں سنا کہ وہ مدینہ آرہا ہے اور عورتوں کو قیدی بنا رہا ہے اور بچوں کو قتل کررہا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو ہم اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پھر آپ نے اس کے قتال کا ارادہ کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی۔ ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کی معیت میں قتال کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا ۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تعرض کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔

حواشی
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (بنحدة).
(٣) في [هـ]: (ذلك).
(٤) في [ع]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (تدرك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله / حدیث: 40695
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٣٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40695، ترقيم محمد عوامة 39042)