حدیث نمبر: 40486
٤٠٤٨٦ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثني معتمر بن سليمان التيمي قال: سمعت أبي قال: حدثنا أبو نضرة عن أبي سعيد مولى أبي أَسِيد الأنصاري قال: سمع عثمان أن وفد أهل مصر قد أقبلوا، فاستقبلهم فكان في قرية خارجا من المدينة، أو كما قال، قال: فلما سمعوا (به) (٢) أقبلوا نحوه إلى المكان الذي هو فيه، قال: أراه قال: (وكره) (٣) أن يقدموا عليه المدينة، أو نحوا من ذلك. فأتوه (فقالوا) (٤): ادع بالمصحف، فدعا بالمصحف (فقالوا) (٥): ⦗٤٢٤⦘ (افتح) (٦) السابعة، وكانوا (يسمون) (٧) سورة يونس السابعة، فقرأها حتى إذا أتى على هذه الآية: ﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ﴾ [يونس: ٥٩] قالوا: أرأيت ما حميتَ من الحمى: آللَّهُ أذن لك به أم على اللَّه (تفتري؟) (٨) فقال: أمضه، (أنزلت) (٩) في كذا وكذا، وأما الحمى فإن عمر حمى الحمى (قبلي) (١٠) لإبل الصدقة؛ فلما وليت زادت إبل الصدقة فزدت في الحمى لما زاد من إبل الصدقة، (أمضه) (١١)، فجعلوا يأخذونه بالآية فيقول: أمضه، نزلت في كذا وكذا. والذي يلي كلام عثمان يومئذ في سنك، يقول: أبو نضرة يقول لي ذلك أبو سعيد: قال أبو نضرة: وأنا في سنك يومئذ، قال: ولم يخرج وجهي -أو لم (يستو) (١٢) وجهي- يومئذ، لا أدري لعله قال مرة أخرى: وأنا يومئذ في ثلاثين سنة. ثم أخذوه باشياء لم يكن عنده منها نحرج، فعرفها فقال: أستغفر اللَّه وأتوب إليه، فقال لهم: (ما تريدون؟) (١٣) فأخذوا ميثاقه، قال: واحسبه قال: وكتبوا عليه شرطًا، قال: وأخذ عليهم، أن لا يشقوا (عصى) (١٤) ولا يفارقوا جماعة ما أقام لهم بشرطهم أو كما أخذوا عليه. ⦗٤٢٥⦘ فقال لهم: ما تريدون؟ فقالوا: نريد أن لا يأخذ أهل المدينة عطاء، فإنما هذا المال لمن قاتل عليه ولهذه الشيوخ من أصحاب محمد ﷺ[فرضوا. وأقبلوا معه إلى المدينة راضين، فقام فخطب فقال: واللَّه إني ما رأيت (وفدا هم) (١٥) خير (لحوباتي) (١٦) من هذا الوفد (الذين) (١٧) قدموا عليّ، وقال مرة أخرى: حسبت أنه قال: من هذا الوفد من أهل مصر، ألا من كان له زرع فليلحق بزرعه، ومن كان له ضرع (فليحتلب) (١٨)، إلا إنه لا مال لكم عندنا، إنما هذا المال لمن قاتل عليه، ولهذه الشيوخ من أصحاب محمد ﷺ] (١٩)، فغضب الناس (وقالوا) (٢٠): (هذا) (٢١) مكر بني أمية. ثم رجع الوفد المصريون راضين، فبينما هم في الطريق (إذا هم) (٢٢) براكب يتعرض لهم ثم يفارقهم ثم يرجع إليهم (ثم يفارقهم) (٢٣) ويسبهم، فقالوا له: إن لك لأمرا، ما شأنك؟ قال: أنا رسول أمير المؤمنين إلى عامله بمصر ففتشوه فإذا (بكتاب) (٢٤) على لسان عثمان، (عليه) (٢٥) خاتمه إلى عامل مصر: أن (٢٦) يقتلهم أو يقطع أيديهم وأرجلهم. ⦗٤٢٦⦘ فأقبلوا حتى قدموا المدينة، فأتوا عليًا فقالوا: ألم تر إلى عدو اللَّه، أمر فينا بكذا وكذا، واللَّه قد (أحل) (٢٧) دمه (قم معنا) (٢٨) إليه، فقال: لا واللَّه، لا أقوم معكم، قالوا: فلم كتبت إلينا؟ قال: لا واللَّه ما كتبت إليكم كتابا قط. قال: فنظر بعضهم إلى بعض، ثم قال بعضهم لبعض: ألهذا تقاتلون أو لهذا (تغضبون) (٢٩)، وانطلق علي فخرج من المدينة إلى قرية -أو قرية له-. فانطلقوا حتى دخلوا على عثمان فقالوا: (كتبت) (٣٠) فينا بكذا وكذا، فقال: إنما هما (اثنتان) (٣١) أن تقيموا عليَّ رجلين من المسلمين أو (يمينًا) (٣٢) باللَّه الذي لا إله إلا هو، ما كتبت ولا أمليت، وقد تعلمون أن الكتاب يكتب على لسان الرجل (٣٣) ينقش الخاتم على الخاتم، فقالوا له: قد واللَّه أحل اللَّه (دمك) (٣٤)، ونقض العهد والميثاق. قال: (فحصروه) (٣٥) في القصر، فأشرف عليهم فقال: السلام عليكم، قال: فما (أسمع) (٣٦) أحدا رد السلام إلا أن يرد رجل في نفسه، فقال: أنشدكم باللَّه، هل علمتم أني اشتريت رومة (بمالي) (٣٧) (لأستعذب) (٣٨) بها، فجعلت رشائي فيها ⦗٤٢٧⦘ كرشاء رجل من المسلمين، فقيل: نعم، فقال: (فعلام) (٣٩) تمنعوني أن (أشرب) (٤٠) منها حتى أفطر (على) (٤١) ماء البحر، قال: أنشدكم باللَّه، هل علمتم أني اشتريت (كذا وكذا) (٤٢) من الأرض (فزدته) (٤٣) في المسجد؟ قيل: نعم، قال: فهل علمتم أحدا من الناس منع أن يصلي فيه، (قيل: نعم) (٤٤)، قال: فأنشدكم باللَّه هل سمعتم نبي اللَّه ﵇ (٤٥) (فذكر) (٤٦) (كذا وكذا) (٤٧) شيئا من شأنه، وذكر أرى (كتابة) (٤٨) (المفصل) (٤٩). قال: ففشا النهي، وجعل الناس يقولون: مهلا عن أمير المؤمنين، وفشا النهي وقام الأشتر، فلا أدري يومئذ أم يومًا آخر فقال: (لعله) (٥٠) قد مكر به وبكم، قال: فوطئه الناس حتى (لقي) (٥١) كذا وكذا. ثم إنه (أشرف) (٥٢) عليهم مرة أخرى فوعظهم وذكرهم، فلم تأخذ ⦗٤٢٨⦘ (فيهم) (٥٣) الموعظة، وكان الناس تأخذ فيهم الموعظة أول ما يسمعونها، فإذا أعيدت عليهم لم تأخذ فيهم الموعظة. ثم فتح الباب ووضع المصحف بين يديه (٥٤).
مولانا محمد اویس سرور

ابو سعید سے منقول ہے کہ حضرت عثمان سے سنا کہ مصر کا وفد آیا ہے پس حضر ت عثمان نے ان کا استقبال کیا وہ مدینہ سے باہر ایک بستی میں تھے راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عثمان اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ وہ مدینہ میں ان کے پاس حاضر ہوں یا اس طرح کا کوئی امر تھا۔ پس اہل مصر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ صحیفہ منگوائیے تو انہوں نے صحیفہ منگوا لیا پھر کہنے لگے اس کو کھولیے اور سابعہ نکالیے وہ سور یونس کو سابعہ کا نام دیتے تھے پس حضرت عثمان نے پڑھنا شروع کیا اس آیت پر پہنچے : { قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللہِ تَفْتَرُونَ } (آپ کہہ دیجیے تم بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے جو رزق اتارا پھر اس میں سے تم نے حرام اور حلال بنا لیا آپ کہہ دیں کیا تمہیں اللہ نے اجازت دی یا اللہ پر تم بہتان باندھتے ہو) حضرت عثمان نے فرمایا پس اسے چھوڑو یہ آیت فلاں فلاں امر میں اتری ہے بہر حال آپ چراگاہ کی جو بات کر رہے ہیں تو مجھ سے پہلے حضرت عمر نے صدقہ کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر کی تھی۔ پھر جب مجھے والی بنایا گیا تو صدقہ کے اونٹ بڑھ گئے، میں نے چراگاہ کو بھی وسعت دیدی اونٹوں کی کثرت کے پیش نظر۔ پس اہل مصر آیتوں سے دلیل پکڑتے رہے اور حضرت عثمان فرماتے رہے کہ اسے چھوڑو اور کہتے رہے یہ آیت فلاں فلاں واقعہ میں اتری ہے۔ جو حضرت عثمان سے کلام کررہا تھا وہ آپ کی عمر کا تھا، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ یہ بات مجھے ابو سعیدنے بتائی، ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ میں اس دن تمہاری عمر کا تھا کہتے ہیں میرے چہرے پر مکمل جوانی کے اثرات ظاہر نہ ہوئے تھے یا یوں فرمایا کہ میں اچھی طرح جوان نہ ہوا تھا۔ میں نہیں جانتا کہ انہوں نے دوسری دفعہ فرمایا ہو میں اس دن تیس سال کا تھا۔ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایسے اعتراضات کیے جن سے وہ چھٹکارا نہ پا سکے اور حضرت عثمان نے ان چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح پہچان لیا پھر فرمایا میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ پھر ان سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو ؟ پھر انہوں نے حضرت عثمان سے ایک عہد لیا راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے انہوں نے کچھ شرائط بھی طے کیں اور حضرت عثمان نے ان سے عہد لیا کہ وہ مسلمانوں کی قوت کو فرو نہ کریں گے اور نہ ہی مسلمانوں میں تفرقہ پھلائیں گے جب تک کہ میں شرائط پر قائم رہوں گا۔ پھر حضر ت عثمان نے فرمایا تم اور کیا چاہتے ہو تو انہوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ عطا یا نہ لیں کیونکہ یہ مال تو صرف قتال کرنے والوں اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے پس وہ راضی ہوگئے اور حضرت عثمان کے ساتھ مدینہ آئے پس حضرت عثمان کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں نے اس وفد سے بہتر کوئی وفد نہیں دیکھا جو میری حاجت کے لیے اس سے بہتر ہو۔ اور پھر دوسری مرتبہ یہی فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ اس کے شرکاء اہل مصر ہیں سنو جس کے پاس کھیتی ہے وہ اپنی کھیتی باڑی کرے اور جس کے پاس دودھ والا جانور ہے وہ اس کا دودھ نکال کر گزارا کرے میرے پاس تمہارے لیے کوئی مال نہیں۔ اور مال مجاہدین اور اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے پس لوگ غصے ہوئے اور کہنے لگے یہ بنوامیہ کا فریب ہے۔ پھر مصری وفد بخوشی واپس لوٹ گیا۔ راستے میں تھے کہ ایک سوار ان کے پاس آیا پھر ان سے جدا ہوگیا پھر ان کی طرف لوٹا اور جدا ہوگیا اور ان کو برا بھلا کہا۔ تو انہوں نے ا س سے کہا تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا امیر المؤ منین کی طرف سے مصر کے گورنر کی طرف سفیر ہوں پس اس وفد نے تحقیق کی تو اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کی طرف سے تھا اس پر مہر بھی حضرت عثمان کی تھی اور مصر کے گورنر کو یہ پیغام لکھا تھا کہ وہ اس وفد کو قتل کردے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ پس وہ وفد واپس لوٹا اور مدینہ پہنچا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے کہا تم اللہ کے دشمن کی طرف نہیں دیکھتے جس نے ہمارے بارے میں اس طرح کا حکم جاری کیا ہے، اللہ نے اس کا خون حلال کردیا ہے آپ ہمارے ساتھ چلیے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میں تمہارے ساتھ ہرگز نہیں جاؤنگا، اہل وفد نے حضرت عثمان سے پوچھا آپ نے ہمارے لیے یہ خط کیوں لکھا تو حضرت عثمان نے جواب دیا اللہ کی قسم میں نے تمہارے لیے کوئی خط نہیں لکھا، پس وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، اور ایک دوسرے کو کہنے لگے کیا اس وجہ سے تم قتال کروگے ؟ کیا اس وجہ سے تم غیظ و غضب میں مبتلا ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکل کر ایک بستی کی طرف چلے گئے۔ پس وہ چلے اور حضرت عثمان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ آپ نے ہمارے بارے میں اس طرح کیوں لکھا۔ حضرت عثمان نے فرمایا کہ تب دو ہی چیزیں ہیں ایک یہ کہ

حواشی
(١) في [س]: (عثمان).
(٢) في [أ]: (إليه).
(٣) في [س]: (ذكره).
(٤) في [أ، ب]: (وقالوا)، وفي [جـ]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (فقال).
(٦) في [أ، ب]: (افتتح).
(٧) في [أ، ب]: (يسمعون).
(٨) في [ب]: (يفتري).
(٩) في [أ، ب]: (نزلت).
(١٠) في [جـ، س]: (قبل).
(١١) سقط من: [جـ، س].
(١٢) في [أ، ب]: (يسبق).
(١٣) في [س]: (ما يريدون).
(١٤) في [أ، ب]: (غصًا).
(١٥) في [ب، جـ، س]: (وافد)، وفي [هـ]: (وفد أهم).
(١٦) في [ب]: (لحواباتي)، وفي [ع]: (لحبواتي).
(١٧) في [ب]: (الذي).
(١٨) في [ب]: (فلتحتلب).
(١٩) سقط ما بين المعكوفين من: [أ].
(٢٠) في [جـ]: (وقال).
(٢١) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٢٢) سقط من: [ط، هـ].
(٢٣) في [ب]: (ليفارفهم).
(٢٤) في [أ، ب، جـ، س]: (بالكتاب).
(٢٥) في [جـ، س]: (قلبه)، وسقط من: [أ].
(٢٦) في [هـ]: زيادة (يصلبهم أو).
(٢٧) في [أ، ب]: (أجل).
(٢٨) في [أ، ب، جـ، س]: (فرجعنا).
(٢٩) في [أ، ب، س]: (تعصبون).
(٣٠) في [ب]: (اكتبت).
(٣١) في [أ، ب]: (اثنتين).
(٣٢) في [ط، هـ]: (يميني).
(٣٣) في [هـ]: زيادة (وقد).
(٣٤) في [ع]: (دمه).
(٣٥) في [أ، ب، جـ، س]: (حصروه).
(٣٦) في [ب]: (استمع).
(٣٧) في [س]: (بماتي).
(٣٨) في [أ، ب]: (لأسعدت).
(٣٩) في [أ، ب]: (علام).
(٤٠) في [أ، ب]: (شرب).
(٤١) في [جـ]: (حتى).
(٤٢) في [س]: (كذا كذا).
(٤٣) في [أ، ب]: (فرددته).
(٤٤) في المراجع: (قبلي).
(٤٥) في [أ، ب، جـ]: ﷺ.
(٤٦) في [أ، ب، جـ، س]: (يذكر).
(٤٧) في [أ]: (كذا أو كذا).
(٤٨) في [جـ]: (كتاه).
(٤٩) في [أ، ب]: (المفضل)، وفي [جـ]: (الفضل).
(٥٠) في [أ، ب]: (له).
(٥١) في [أ، ب، جـ]: (بقى).
(٥٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (شرف).
(٥٣) في [أ، ب]: (فيهما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40486
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو سعيد وثقه الهيثمي في مجمع الزوائد ٧/ ٢٢٩، وابن حجر في المطالب العالية ١٨/ ٤٧، وقال ابن منده في فتح الباب ١/ ٣٦٢: "له صحبة"، أخرج بعضه أحمد في فضائل الصحابة (٧٦٦)، وابن خزيمة (٢٤٩٣)، وابن حبان (٦٩١٩)، والبزار (٣٨٩)، وإسحاق (٨٥٩)، وكما في المطالب العالية (٤٣٧٢)، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٥٥، في كتاب المصاحف (١) والآجري (١٤٧٣)، والبيهقي ٦/ ١٤٧، وابن عساكر ٣٩/ ٢٥٧، وأبو الشيخ في طبقات أصفهان (١٦٢)، وابن شبه (١٩٧١) و (١٩٨٠)، والطحاوي في شرح المشكل (٥٠١٨)، واللالكائي (٢٥٩٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40486، ترقيم محمد عوامة 38845)