حدیث نمبر: 40428
٤٠٤٢٨ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا سفيان قال: حدثنا سلمة بن كهيل عن أبي (الزعراء) (١) عن عبد اللَّه أنه ذكر عنده الدجال فقال عبد اللَّه: تفترقون أيها الناس لخروجه ثلاث فرق: فرقة تتبعه، وفرقة تلحق بأرض آبائها بمنابت (الشيح) (٢)، وفرقة تأخذ شط هذا الفرات فيقاتلهم ويقاتلونه حتى يجتمع المؤمنون (بغربي) (٣) الشام فيبعثون إليه طليعة فيهم فارس على فرس أشقر أو (فرس) (٤) ⦗٣٩٥⦘ أبلق، فيقتلون لا يرجع منهم بشر (٥). - قال سلمة: فحدثني أبو صادق عن ربيعة بن (ناجد) (٦) أن عبد اللَّه قال: فرس أشقر (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سلمہ بن کھیل ابی الزعراء سے اور وہ حضرت عبداللہ سے نقل کرتے ہیں ان کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا حضرت عبداللہ نے فرمایا اے لوگو اس کے خروج کے وقت تم تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے ایک گروہ اس کی پیروی کرے گا اور ایک گروہ اپنے آباؤ اجداد کی زمین میں گھاس اگنے کی جگہوں پر چلاجائے گا اور ایک گروہ اس فرات کا کنارہ پکڑے گا۔ وہ (دجال) ان سے لڑائی کرے گا اور وہ (لوگ) اس سے لڑائی کریں گے یہاں تک کہ مومنین شام کے مغربی جانب جمع ہوجائیں گے وہ اس کی طرف آگے جانے والے لشکر کو بھیجیں گے ان میں ایک سوار ہوگا سفید سرخی کے گھوڑے پر یا چتکبرے گھوڑے پر سوار ہوگا وہ سارے قتل کردیے جائیں گے ان میں سے کوئی انسان نہیں لوٹے گا۔ سلمہ نے فرمایا مجھ سے ابو صادق نے بیان کیا ربیعہ بن ناجد سے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا سفید سرخی مائل گھوڑا ہوگا پھر حضر ت عبداللہ نے فرمایا کہ اہل کتاب کہتے ہیں مسیح عیسیٰ بن مریم اتریں گے اور اسے قتل کریں گے ابو الزعراء نے فرمایا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو اہل کتاب سے اس حدیث کے علاوہ کوئی حدیث نقل کرتے ہوئے نہیں سنا۔ پھر حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ پھر یاجوج ماجوج نکلیں گے وہ زمین میں اتراتے پھریں گے اور زمین میں فساد پھلائیں گے پھر حضرت عبداللہ نے پڑھا { وَہُمْ مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُونَ } اور وہ ہر اونچی جگہ سے بھاگتے ہوئے آئیں گے حضرت عبداللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑابھیجیں گے اونٹ کے ناک میں پیدا ہونے والے کیڑے کی طرح وہ ان کے کانوں اور ان کے نتھنوں میں داخل ہوجائے گا وہ اس سے مرجائیں گے ارشاد فرمایا کہ ان سے زمین متعفن ہوجائے گی اللہ تعالیٰ سے فریاد کی جائے گی پس اللہ تعالیٰ ان پر بارش اتاریں گے اور اللہ تعالیٰ سخت ٹھنڈی ہوا چھوڑیں گے پس وہ زمین پر کوئی مومن نہیں چھوڑے گی مگر اسے یہ ہوا الٹ پلٹ کر دے گی ارشاد فرمایا پھر شریر لوگوں پر قیامت قائم ہوگی۔ ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اور اس صور میں پھونکے گا راوی نے کہا کہ صور سینگ ہے ارشاد فرمایا کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی مخلوق نہیں باقی رہے گی مگر وہ مرجائے گی مگر جس کے بارے میں اللہ چاہے پھر وہ اللہ چاہے فرمایا کہ پھر دونوں نفخوں کے درمیان اتنا وقت ہوگا جتنا کہ وقت ہونا اللہ چاہیں گے (راوی نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ عرش کے نیچے سے پانی پھینکیں گے مردوں کی منی کی طرح ارشاد فرمایا کہ آدمی کی اولاد مں ی سے کوئی مخلوق نہیں بچے گی مگر اس سے (پانی سے) کچھ اسے پہنچے گا پس ان کے جسم اور ان کا گوشت اس پانی سے دوبارہ حیات یافتہ ہوگا جیسا کہ زمین تیزی سے سبزہ اگاتی ہے۔ پھر حضرت عبداللہ نے یہ آیت تلاوت کی ترجمہ اور اللہ وہ ذات ہے جو ہواؤں کو بھیجتی ہے وہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں پس ہم اس کو ہانکتے ہیں مردہ شہر کی طرف پس ہم اس سے زمین کو زندہ کرتے ہیں اس کے مرے پیچھے اس طرح دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر ارشاد فرمایا پھر زمین و آسمان کے درمیان فرشتہ صور لے کر کھڑا ہوگا اس کو پھونکے گا پھر ہر روح اپنے جسم کی طرف چلے گی اور اس میں داخل ہوجائے گی فرمایا پھر کھڑے ہوں گے اور ایک آدمی کی طرح زندہ ہوں گے اور رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مخلوق کے لیے ایک صورت میں ظاہر ہوں گے اور ان لوگوں کو ملیں گے پس مخلوق میں سے جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی اور چیز کی عبادت کرتا ہوگا ان میں سے کوئی بھی نہیں رہے گا مگر وہ چیز اس کے لیے بلند کی جائے گی وہ اس کے پیچھے چلے گا پس یہود سے ملیں گے اور کہیں گے تم کن کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے ہم عزیر کی عبادت کرتے ہیں پس اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں (ارشاد فرمایا) اللہ تعالیٰ ان کو جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب کی طرح ہوگی ( سراب سے مراد ریت جو دھوپ میں پانی دکھائی دیتی ہے) پھر حضرت عبداللہ نے آیت تلاوت کی ترجمہ اور ہم اس دن کفار کے سامنے جہنم کو لائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے ملیں گے اور پوچھیں گے تم کس کی عبادت کرتے ہو وہ کہیں گے حضرت مسیح (عیسیٰ ) کی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تمہیں پانی پسند ہے وہ کہیں گے جی ہاں اللہ تعالیٰ انہیں جہنم دکھائیں گے اور وہ سراب (وہ چمکیلی ریت جو دھوپ کی روشنی سے پانی دکھائی دے) ہوگی۔ پھر فرمایا کہ پھر تمام وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کیا کرتے تھے ان کے ساتھ یہی معاملہ ہوگا۔ پھر حضرت عبداللہ نے آیت پڑھی ترجمہ :۔ ان کو ٹھہراؤ کیونکہ ان سے پوچھا جائے گا یہاں تک کہ مسلمانوں کی جماعت سامنے آئے گی اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو

حواشی
(١) في [س]: (الزغزاء).
(٢) في [ب، س]: (الشيخ)، وفي [أ، ب، هـ]: (بقرى).
(٣) في [س]: (بغر لي).
(٤) في [ع]: (فرق).
(٥) صحيح؛ أخرجه النسائي (١١٢٩٦)، وابن خزيمة في التوحيد (٢٥٢)، والحاكم ٢/ ٥٠٧، والطيالسي (٣٨٩)، وابن جرير ١٥/ ١٤٤، والعقيلي ٢/ ٣١٤، وابن أبي حاتم (١٨٩٥٧)، والطبراني (٩٧٦١)، والطحاوي في شرح المشكل ١٤/ ٨٠، وحنبل في الفتن (٤٤)، ونعيم (١٥١٥).
(٦) في [هـ]: (ناجذ).
(٧) مجهول؛ لجهالة ربيعة بن ناجد.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفتن / حدیث: 40428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40428، ترقيم محمد عوامة 38792)