٤٠٤٢٥ - حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا (مجالد) (١) قال: (أخبرنا) (٢) عامر قال: أخبرتني فاطمة ابنة قيس قالت: خرج رسول اللَّه ﷺ ذات يوم بالهاجرة يصلي قالت: ثم صعد المنبر فقام الناس فقال: " (٣) أيها الناس! اجلسوا فإني لم أقم مقامي (هذا) (٤) (لرغبة) (٥) ولا لرهبة" -وذلك أنه صعد المنبر في (ساعة) (٦) لم يكن يصعده فيها- "ولكنَّ تميما الداري أتاني فأخبرني خبرا (منعني) (٧) القيلولة من الفرح (وقرة) (٨) العين، فأحببت أن أنشر عليكم خبر (تميم) (٩)، أخبرني أن رهطا من بني عمه ركبوا البحر فأصابتهم عاصف من ريح، فألجأتهم إلى جزيرة لا يعرفونها ⦗٣٩٢⦘ (فقعدوا) (١٠) في قوارب السفينة حتى خرجوا إلى الجزيرة فإذا هم بشيء أسود (أهدب) (١١) كثير الشعر، لا يدرون هو رجل أو امرأة، قالوا: ألا تخبرنا! قال: ما أنا بمخبركم ولا مستخبركم شيئا، ولكن هذا الدير قد (رمقتموه) (١٢) ففيه من هو إلى (خبركم) (١٣) بالأشواق، والى أن يخبركم ويستخبركم، قالوا: فما أنت؟ (قالت) (١٤): أنا الجساسة؛ فانطلقوا حتى أتوا الدير فاستأذنوا، فأذن لهم، فإذا هم بشيخ (موثق) (١٥) شديد الوثاق مظهر الحزن كثير التشكي، فسلموا عليه فرد السلام (وقال) (١٦): من أين (نبأتم؟) (١٧) قالوا: من الشام، قال: ممن أنتم؟ قالوا: من العرب، قال: ما فعلت العرب، خرج (نبيهم بعد؟) (١٨) قالوا: نعم، قال: فما فعلوا؟ قالوا: ناوأه قوم فأظهره اللَّه عليهم فهم اليوم جميع، قال: ذاك خير، وذكر فيه: أمنوا به واتبعوه (وصدقوه) (١٩)، قال: ذاك خير لهم، قال: فالعرب اليوم (إلههم) (٢٠) واحد وكلمتهم واحدة؟ قالوا: نعم، قال: ذاك خير لهم، قال: فما فعلت عين (زغر؟) (٢١) قالوا: صالحة يشرب أهلها بشفتهم ويسقون منها زرعهم، قال: فما فعل نخل بين ⦗٣٩٣⦘ عمان (وبيسان؟) (٢٢) قالوا: يطعم جناه كل عام، قال: فما فعلت بحيرة الطبرية؟ قالوا: ملآى تدفق جنباتها من (كثرة) (٢٣) الماء، قال: فزفر ثم زفر ثم زفر ثم (حلف) (٢٤) فقال: لو قد انفلت -أو خرجت- من وثاقي هذا -أو مكاني هذا- ما تركت أرضا إلا (وطئتها) (٢٥) برجلي (هاتين) (٢٦) (غير) (٢٧) طيبة، ليس لي عليها سبيل ولا سلطان"، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلى هذا انتهى فرحي، هذه طيبة، والذي نفس محمد بيده إن هذه طيبة، ولقد حرم اللَّه حرمي على الدجال أن يدخله -ثم حلف ﷺ ما لها طريق ضيق ولا واسع في سهل أو جبل إلا عليه ملك شاهر بالسيف إلى يوم القيامة، ما يستطيع الدجال أن يدخلها على أهلها" (٢٨).حضرت فاطمہ بنت قیس سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن دوپہر کے وقت تشریف لائے اور نماز پڑھائی پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے پس لوگ کھڑے ہوگئے آپ نے ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! بیٹھ جاؤ بلا شبہ میں اس جگہ رغبت اور خوف کی وجہ سے کھڑا نہیں ہوا اور یہ اس وجہ سے فرمایا کہ اس گھڑی میں آپ منبر پر پہلے نہیں بیٹھے تھے لیکن تمیم داری میرے پاس آئے اور مجھے ایسی خبر دی کہ جس کی خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک نے مجھے قیلولے سے روک دیا میں نے چاہا کہ تمہارے سامنے تمیم کی خبر بتلاؤں اس نے مجھے بتلایا کہ ان کے چچیرے بھائیوں کی جماعت نے سمندر میں سفر کیا انہیں تیز آندھی پہنچی اس آندھی نے ان کو ایسے جزیرے میں ڈال دیا جسے وہ پہچانتے نہ تھے پس وہ قریبی کشتیوں پر سوار ہوگئے اور جزیرے کی طرف نکلے پس وہ ایسی کالی چیز کے پاس پہنچے جو بہت زیادہ بالوں والی تھی انہں ب پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ مرد ہے یا عورت وہ اس سے کہنے لگے تم ہمیں بتلاؤ گی نہیں وہ کہنے لگی میں نہ تمہیں بتلاتی ہوں اور نہ تم سے کسی چیز کے بارے میں پوچھتی ہوں لیکن یہ راہب خانہ جس کے تم قریب ہو اس میں آدمی ہے جو تمہارے بارے میں اور تمہیں بتلانے اور تم سے پوچھنے کا شوق رکھتا ہے انہوں نے اس سے پوچھا تو کیا چیز ہے اس نے کہا میں جاسوس ہوں وہ نکلے اور راہب خانے میں پہنچ گئے انہوں نے داخل ہونے کی اجازت لی اس نے اجازت دے دی پس وہاں انہوں نے ایک بوڑھے کو پایا جسے سخت بیڑیوں میں جکڑا گیا تھا وہ غم کا اظہار کرنے والا تھا اور بہت زیادہ شکایت کرنے والا تھا انہوں نے اس کو سلام کیا اس نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا تم کہاں سے آئے ہو انہوں نے کہا شام سے اس نے پوچھا تم کن میں سے ہو وہ کہنے لگے عرب والوں سے اس نے پوچھا عرب کی کیا حالت ہے ان کے نبی نمودار ہوگئے ہیں وہ کہنے لگے ہاں اس نے پوچھا ان عرب والوں نے کیا کیا انہوں نے بتلایا کہ ایک قوم نے ان سے مقابلہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان پر غلبہ دے دیا اب وہ سب مجتمع ہیں اس نے کہا یہ اچھا ہے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی گئی کہ عرب ان پر ایمان لے آئے ہیں اور ان کی پیروی کی ہے اور ان کی تصدیق کی ہے اس نے کہا یہ ان کے لیے بہتر ہے۔ پھر اس نے پوچھا مقام زغر کے چشمے کی کیا حالت ہے تو ہ بولے اچھا ہے وہاں کے لوگ پیاس میں (اس سے) پیتے ہیں اور اس سے اپنی کھیتیوں کو سیراب کرتے ہیں اس نے پوچھا عمان اور بیسان مقام کی کھجوروں کی کیا حالت ہے انہوں نے بتلایا ان سے سال بھر پھل حاصل ہوتا ہے اس نے پوچھا بحیرہ طبریہ کی کیا حالت ہے انہوں نے کہا کہ بھرا ہوا ہے پانی کی کثرت کی وجہ سے اس کے دونوں کنارے کودتے ہیں راوی نے بتلایا کہ اس نے لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر لمبا سانس لیا پھر اس نے قسم کھائی اور کہا اگر میں چھوٹ گیا یا کہا میں نکل گیا ان بیڑیوں سے یا کہا اس جگہ سے تو میں کسی زمین کو نہیں چھوڑوں گا مگر اسے اپنے ان دونوں پاؤں سے روندوں گا سوائے طیبہ (مدینہ منورہ) کے اس پر مجھے کوئی راستہ اور تسلط حاصل نہیں ہے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ میری خوشی کی انتہا ہے یہ طیبہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے یہ طیبہ ہے اللہ تعالیٰ نے میرے حرم کو دجال کے داخلے کے لیے حرام کردیا ہے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قسم کھا کر فرمایا اس (طیبہ) کا کوئی تنگ اور کوئی کشادہ راستہ نرم زمین یا پہاڑ میں نہیں مگر اس پر تلوار سونتے ایک فرشتہ قیامت تک مامور ہے دجال مدینہ والوں پر داخل ہونے کی طاقت نہیں رکھتا۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ عامر نے خبر دی کہا کہ یہ حدیث میں نے قاسم بن محمد کے سامنے بیان کی قاسم نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں عائشہ رضی اللہ عنہا پر کہ انہوں نے یہ حدیث مجھ سے بیان کی سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا دونوں حرم اس پر حرام ہیں مکہ اور مدینہ عامر نے فرمایا کہ میں محرر بن ابی ہریرہ سے ملا میں نے ان سے فاطمہ بنت قیس والی روایت بیان کی انہوں نے کہا کہ میں اپنے والد (حضرت ابوہریرہ ) کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے مجھ سے ایسے ہی بیان کیا جیسے تم سے فاطمہ نے بیان کیا ہے ایک حرف بھی انہوں نے کم نہیں کیا سوائے اس کے کہ میرے والد نے اس میں ایک بات کا اضافہ کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو مشرق کی طرف گرایا تقریباً بیس مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ نیچے گرایا۔