حدیث نمبر: 3988
٣٩٨٨ - حدثنا أبو معاوية عن (عبد الرحمن بن إسحاق) (١) عن زياد بن زيد (السوائي) (٢) عن أبي جحيفة عن علي قال: من سنة الصلاة وضع الأيدي على الأيدي تحت (السرر) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کی سنت یہ ہے کہ ہاتھ ہاتھوں پر ناف کے نیچے باندھے جائیں۔
حواشی
(١) في حاشية [ب]: (ضعيف).
(٢) في حاشية [ب]: (مجهول).
(٣) في [جـ]: (سره).
(٤) مجهول؛ لجهالة زياد، وعبد الرحمن ضعيف، أخرجه أبو داود (٧٥٦)، والدارقطني ١/ ١٨٦، والبيهقي ٢/ ٣١، وعبد اللَّه بن أحمد (٨٧٥)، والمزي ٩/ ٤٧٣.
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟
مصنف ابن ابی شیبہ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے۔
«عن على السنة وضع اليدين فى الصلاة هل وضع اليد تحت السرة فى الصلاة» [ابن ابي شيبه1/391، مسند احمد 1/110 ح 875]
جواب:
«عن علي.» [مسند احمد ج1 ص110، ابو داؤد 756 وابن ابي شيبه ج1ص 391]
اس روایت کی سند ضعیف ہے اس کا راوی عبد الرحمٰن بن اسحاق الکوفی الواسطی جمہورمحدثین کے نزدیک ضعیف ہے بلکہ انور شاہ کاشمیری نے کہا: «الواسطي وهو متفق على ضعفه»
"بے شک واسطی ضعیف ہے اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔" [العرف الشذي ج1ص76سطر نمبر28]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوی علمیہ جلد 1، كتاب الصلاة، صفحہ 313
مصنف ابن ابی شیبہ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے۔
«عن على السنة وضع اليدين فى الصلاة هل وضع اليد تحت السرة فى الصلاة» [ابن ابي شيبه1/391، مسند احمد 1/110 ح 875]
جواب:
«عن علي.» [مسند احمد ج1 ص110، ابو داؤد 756 وابن ابي شيبه ج1ص 391]
اس روایت کی سند ضعیف ہے اس کا راوی عبد الرحمٰن بن اسحاق الکوفی الواسطی جمہورمحدثین کے نزدیک ضعیف ہے بلکہ انور شاہ کاشمیری نے کہا: «الواسطي وهو متفق على ضعفه»
"بے شک واسطی ضعیف ہے اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔" [العرف الشذي ج1ص76سطر نمبر28]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوی علمیہ جلد 1، كتاب الصلاة، صفحہ 313
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 313 سے ماخوذ ہے۔