حدیث نمبر: 3981
٣٩٨١ - حدثنا وكيع عن موسى بن عمير عن علقمة (بن) (١) وائل بن حجر عن أبيه قال: رأيت النبي ﷺ وضع يمينه على شماله في الصلاة (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن حجر سے روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (عن).
(٢) في [أ]: زيادة (تحت السرة).
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ زبیر علی زئی
نماز میں ہاتھ کہاں باندھے جائیں؟
مصنف ابن ابی شیبہ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے۔
«عن وائل بن حجر قال; رايت النبى صلى الله عليه وسلم يضع يمينه على شماله فى الصلاة تحت السرة» [مصنف ابن ابي شيبه1/390]
جواب:
وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ والی روایت مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ (1ص390) طبع العزیز یہ حیدر آباد، الہند، 1386ھ بمطابق 1966ء) میں «تحت السرة» کے اضافے کے بغیر موجود ہے۔
اسی طرح میرے استاد محترم الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی السندھی رحمۃ اللہ علیہ کے کتب خانے میں مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو قلمی نسخہ موجود ہے اس میں بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔
انور شاہ کاشمیری دیوبندی نے کہا کہ میں نے مصنف (ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ)کے تین نسخے دیکھے ہیں ان میں سے کسی ایک بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [فيض الباري ج2 ص267]
مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو نسخہ بیروت سے چھپا ہے۔
اس میں بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [ج1 ص342 حديث 3938]
مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ والی روایت امام وکیع سے ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نےیہی روایت امام وکیع سے «تحت السرة» کے بغیر نقل کی ہے۔ [مسند احمد ج4ص316حديث: 19051]
کراچی سے ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ کے دیوبندی ناشرین نے حال ہی میں ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا نسخہ شائع کیا ہے اس میں بغیر کسی حوالے کے «تحت السرة» کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے۔
ایک حنفی مولوی قاسم بن قطلوبغا (پیدائش 802 وفات 979ھ) نے یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے «تحت السرة» کے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے بارے میں برہان الدین ابو الحسن ابراہیم بن عمیر البقاعی (متوفی 885ھ) مصنف "نظم الدررفی تناسب الآیات والسور" جو آٹھ جلدوں میں چھپی ہے نے فرمایا: «قاسم بن قطلوبغاكان كذاباً» قاسم بن قطلوبغا۔ کذاب (یعنی جھوٹا)تھا۔ [الضوء اللا مع للسخاوي ج6ص186]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوی علمیہ جلد 1، كتاب الصلاة، صفحہ 313
مصنف ابن ابی شیبہ سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے اس کی اسنادی حیثیت کیا ہے۔
«عن وائل بن حجر قال; رايت النبى صلى الله عليه وسلم يضع يمينه على شماله فى الصلاة تحت السرة» [مصنف ابن ابي شيبه1/390]
جواب:
وائل بن حجر رحمۃ اللہ علیہ والی روایت مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ (1ص390) طبع العزیز یہ حیدر آباد، الہند، 1386ھ بمطابق 1966ء) میں «تحت السرة» کے اضافے کے بغیر موجود ہے۔
اسی طرح میرے استاد محترم الشیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی السندھی رحمۃ اللہ علیہ کے کتب خانے میں مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو قلمی نسخہ موجود ہے اس میں بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔
انور شاہ کاشمیری دیوبندی نے کہا کہ میں نے مصنف (ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ)کے تین نسخے دیکھے ہیں ان میں سے کسی ایک بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [فيض الباري ج2 ص267]
مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا جو نسخہ بیروت سے چھپا ہے۔
اس میں بھی «تحت السرة» کے الفاظ نہیں ہیں۔ [ج1 ص342 حديث 3938]
مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ والی روایت امام وکیع سے ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نےیہی روایت امام وکیع سے «تحت السرة» کے بغیر نقل کی ہے۔ [مسند احمد ج4ص316حديث: 19051]
کراچی سے ادارہ القرآن والعلوم الاسلامیہ کے دیوبندی ناشرین نے حال ہی میں ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کا نسخہ شائع کیا ہے اس میں بغیر کسی حوالے کے «تحت السرة» کے الفاظ کا اضافہ کر دیا ہے۔
ایک حنفی مولوی قاسم بن قطلوبغا (پیدائش 802 وفات 979ھ) نے یہ روایت مصنف ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ سے «تحت السرة» کے اضافے کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے بارے میں برہان الدین ابو الحسن ابراہیم بن عمیر البقاعی (متوفی 885ھ) مصنف "نظم الدررفی تناسب الآیات والسور" جو آٹھ جلدوں میں چھپی ہے نے فرمایا: «قاسم بن قطلوبغاكان كذاباً» قاسم بن قطلوبغا۔ کذاب (یعنی جھوٹا)تھا۔ [الضوء اللا مع للسخاوي ج6ص186]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوی علمیہ جلد 1، كتاب الصلاة، صفحہ 313
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 313 سے ماخوذ ہے۔
✍️ الشیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے متعلق ابن ابی شیبہ والی روایت کی تحقیق
سوال:
درج ذیل عبارت کے متعلق کیا کہتے ہیں؟
• علامہ عبد الشکور فاروقی لکھنوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: "اس مسئلہ میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ مخالف ہیں، ان کے نزدیک مردوں کو بھی سینے پر ہاتھ باندھنا چاہیے۔ بعض کوتاہ نظر لوگوں کو خیال ہے کہ حنفیہ کے پاس اس مسئلہ میں کوئی نقلی دلیل نہیں، حالانکہ ابن ابی شیبہ کے مصنف میں ایک حدیث بذریعہ علقمہ کے وائل بن حجر سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہوئے دیکھا اس حدیث کے سب راوی معتبر ہیں۔"
[حاشیہ علم الفقہ، حصہ دوم، ص 212]
جواب:
مندرج روایت قابل استدلال نہیں تفصیل ملاحظہ ہو: • سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَىٰ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ [تَحْتَ السُّرَّةِ]»
"میں نے نبی کریم صلى الله عليه واله وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر زیر ناف رکھا۔"
[مصنف ابن أبى شيبة: 390/1]
اس حدیث میں "تحت السرة" (ناف کے نیچے) کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے انتہائی ناقص، غیر معتبر اور غیر متداول نسخہ کے ہیں، اس کا ناسخ مجہول اور نامعلوم ہے، یہ نسخہ مکتبہ محمودیہ مدینہ میں موجود ہے، اس کے مالک محمد عابد سندھی حنفی [1257ھ] تھے، بعد میں یہ نسخہ ان کی اولاد کی ملکیت میں آگیا، جنہوں نے اسے مکتبہ محمودیہ کے لیے وقف کر دیا۔
• مصنف ابن ابی شیبہ کے دو محققین حمد بن عبد اللہ اور محمد بن ابراہیم حیدان نے اس نسخہ کے بارے میں لکھا ہے: «هِيَ نُسْخَةٌ كَامِلَةٌ، لَا بَأْسَ بِهَا لَوْلَا مَا فِيهَا مِنَ التَّصْحِيفَاتِ والسَّقْطِ الْكَثِيرِ .»
"یہ کامل نسخہ ہے، اس (سے نقل کرنے) میں کوئی حرج نہ ہوتا، اگر اس میں تصحیفات اور بہت زیادہ سقوط نہ پایا جاتا۔"
[مصنف ابن أبي شيبة، مقدمة، ص 368، ط مكتبة الرشد]
اس روایت میں "تحت السرۃ" کے الفاظ سب سے پہلے علامہ قاسم بن قطلو بغا حنفی [879ھ] نے ذکر کیے۔
• علامہ بقاعی رحمہ اللہ (885ھ) فرماتے ہیں: «كَانَ كَذَّابًا، يَضَعُ الْحَدِيثَ.»
قاسم بن قطلو بغا سخت جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا تھا۔"
[الضوء اللامع للسخاوي: 188/6]
• علامہ نیموی حنفی صاحب [1322ھ] فرماتے ہیں: «أَلْإِنْصَافُ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ، وَإِنْ كَانَتْ صَحِيحَةً لِوُجُودِهَا فِي أَكْثَرِ النُّسُخِ مِنَ الْمُصَنَّفِ، لَكِنَّهَا مُخَالِفَةٌ لِرِوَايَاتِ الثَّقَاتِ، فَكَانَتْ غَيْرَ مَحْفُوظَةٍ فَالْحَدِيثُ، وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مِّنْ حَيْثُ السَّنَدِ، لَكِنَّهُ ضَعِيفٌ مِّنْ جِهَةِ الْمَتْنِ.»
"انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ زیادت اگرچہ مصنف کے اکثر نسخوں میں موجود ہونے کی وجہ سے صحیح ہے، مگر یہ ثقہ راویوں کی روایات کے خلاف ہے، لہذا غیر محفوظ ہے۔ لہذا یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے، مگر متن کے لحاظ سے ضعیف ہے۔"
[التعليق الحسن، ص 91]
یاد رہے کہ علامہ نیموی صاحب کا متعدد نسخوں میں اس زیادتی کے ثابت ہونے کا دعویٰ مبنی برحقیقت نہیں ہے۔ "تحت السرۃ" کے الفاظ کی یہ زیادت مصنف ابن ابی شیبہ کے کسی معتبر نسخہ میں موجود نہیں ہے، جب سرے سے ان الفاظ کا وجود ہی نہیں، تو ثقات کی روایت کے مخالف کیسے؟
*تنبیہ*
اگر کوئی کہے کہ علامہ نیموی صاحب نے اپنی اس عبارت سے رجوع کر لیا تھا اور تعلیق التعلیق میں لکھا ہے: «تُقْبَلُ هٰذِهِ الزِّيَادَةُ وَيَقَعُ التَّرْجِيحُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مُعَارِضِهَا، لِأَنَّ هٰذِهِ الزِّيَادَةَ أَرْفَعُ سَنَدًا مِنْ رِوَايَةِ عَلَى الصَّدْرِ الَّتِي أَخْرَجَهَا ابْنُ خُزَيْمَةَ.»
"یہ زیادت مقبول ہے۔ اس حدیث کو معارض حدیث پر ترجیح حاصل ہو جائے گی، کیونکہ اس روایت کی سند بہ نسبت ابن خزیمہ کی سینے والی روایت کی سند کے زیادہ بہتر ہے۔"
[تعليق التعليق، ص91]
جب "تحت السرة" کی زیادت مصنف ابن ابی شیبہ کے کسی معتبر نسخہ میں موجود ہی نہیں، سب سے پہلے علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی نے اسے دنیا میں متعارف کرایا، تو اسے علی الصدر کے الفاظ پر ترجیح دینے کا کیا معنی؟
• علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب (1353ھ) کہتے ہیں: «فِي الْمُصَنَّفِ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةِ: تَحْتَ السُّرَّةِ، فَاضْطَرَبَتِ الرِّوَايَةُ جِدًّا، وَأَوَّلُ مَنْ نَبَّهَ عَلَى تِلْكَ الزِّيَادَةُ الْأَخِيرَةُ الْعَلَّامَةُ الْقَاسِمُ بْنُ قُطْلُوبُغَا، ثُمَّ إِنَّ لَفْظَ: تَحْتَ السُّرَّةِ، لَمْ يُوجَدْ فِي بَعْضِ نُسَخِهِ، فَظَنَّ الْمُلَّا حَيَاةُ السِّنْدِهِيُّ أَنَّهُ وَقَعَ فِيهِ سَقْطٌ وَحَذْفٌ، ثُمَّ صَارَ مَتْنُ الْأَثَرِ مَرْفُوعًا .
قُلْتُ: وَلَا عَجَبَ أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ، فَإِنِّي رَاجَعْتُ ثَلَاثَ نُسَخِ لِلْمُصَنَّفِ، فَمَا وَجَدْتُهُ فِي وَاحِدَةٍ مِّنْهَا .»
مصنف ابن ابی شیبہ میں «تحت السرة» کے الفاظ ہیں، یہ روایت سخت اضطراب کا شکار ہے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی (879ھ) نے سب سے پہلے ان الفاظ کی زیادتی بیان کی، پھر "تحت السرۃ" کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے بعض نسخوں میں نہیں پائے گئے، ملا حیات سندھی کا خیال ہے کہ اس حدیث میں سقط اور حذف واقع ہوا ہے، پھر یہی (قول تابعی کے) الفاظ مرفوع حدیث کا متن بن گئے۔ میں (انور شاہ) کہتا ہوں: ایسا ہو جانا کوئی تعجب والی بات نہیں، کیونکہ میں نے مصنف ابن ابی شیبہ کے تین نسخوں کا مراجعہ کیا ہے، لیکن کسی نسخہ میں بھی مجھے یہ الفاظ نہیں ملے۔"
[فيض الباري: 267/2]
• مفتی تقی عثمانی دیوبندی صاحب کہتے ہیں: لیکن احقر (مفتی تقی عثمانی) کی نظر میں اس روایت سے استدلال کمزور اول تو اس لیے کہ اس روایت میں "تحت السرة" کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ملے، اگرچہ علامہ نیموی نے "آثار السنن میں متعدد نسخوں کا حوالہ دیا ہے کہ ان میں یہ زیادتی مذکور ہے، تب بھی اس زیادتی کا بعض نسخوں میں ہونا اور بعض میں نہ ہونا اس کو مشکوک ضرور بنادیتا ہے۔" [درس ترمذي: 23/2]
جب یہ زیادتی کسی معتبر نسخے میں موجود نہیں ہے، بقول مفتی تقی صاحب کسی مطبوعہ نسخے میں بھی نہیں مل سکی، جس کی بنا پر انہوں نے اس حدیث کو مشکوک اور اس سے استدلال کو کمزور قرار دیا ہے، پھر بھی بعض لوگوں نے تحریف سے کام لیتے ہوئے مصنف کے بعض مطبوعہ نسخوں میں "تحت السرۃ" کے الفاظ بڑھا دیئے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟
[فتاوىٰ امن پوری، قسط: 540، صفحه: 15-20]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوىٰ امن پوری، قسط: 540، صفحه: 15-20
سوال:
درج ذیل عبارت کے متعلق کیا کہتے ہیں؟
• علامہ عبد الشکور فاروقی لکھنوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں: "اس مسئلہ میں بھی امام شافعی رحمہ اللہ مخالف ہیں، ان کے نزدیک مردوں کو بھی سینے پر ہاتھ باندھنا چاہیے۔ بعض کوتاہ نظر لوگوں کو خیال ہے کہ حنفیہ کے پاس اس مسئلہ میں کوئی نقلی دلیل نہیں، حالانکہ ابن ابی شیبہ کے مصنف میں ایک حدیث بذریعہ علقمہ کے وائل بن حجر سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہوئے دیکھا اس حدیث کے سب راوی معتبر ہیں۔"
[حاشیہ علم الفقہ، حصہ دوم، ص 212]
جواب:
مندرج روایت قابل استدلال نہیں تفصیل ملاحظہ ہو: • سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَىٰ شِمَالِهِ فِي الصَّلَاةِ [تَحْتَ السُّرَّةِ]»
"میں نے نبی کریم صلى الله عليه واله وسلم کو دیکھا کہ آپ نے نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر زیر ناف رکھا۔"
[مصنف ابن أبى شيبة: 390/1]
اس حدیث میں "تحت السرة" (ناف کے نیچے) کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے انتہائی ناقص، غیر معتبر اور غیر متداول نسخہ کے ہیں، اس کا ناسخ مجہول اور نامعلوم ہے، یہ نسخہ مکتبہ محمودیہ مدینہ میں موجود ہے، اس کے مالک محمد عابد سندھی حنفی [1257ھ] تھے، بعد میں یہ نسخہ ان کی اولاد کی ملکیت میں آگیا، جنہوں نے اسے مکتبہ محمودیہ کے لیے وقف کر دیا۔
• مصنف ابن ابی شیبہ کے دو محققین حمد بن عبد اللہ اور محمد بن ابراہیم حیدان نے اس نسخہ کے بارے میں لکھا ہے: «هِيَ نُسْخَةٌ كَامِلَةٌ، لَا بَأْسَ بِهَا لَوْلَا مَا فِيهَا مِنَ التَّصْحِيفَاتِ والسَّقْطِ الْكَثِيرِ .»
"یہ کامل نسخہ ہے، اس (سے نقل کرنے) میں کوئی حرج نہ ہوتا، اگر اس میں تصحیفات اور بہت زیادہ سقوط نہ پایا جاتا۔"
[مصنف ابن أبي شيبة، مقدمة، ص 368، ط مكتبة الرشد]
اس روایت میں "تحت السرۃ" کے الفاظ سب سے پہلے علامہ قاسم بن قطلو بغا حنفی [879ھ] نے ذکر کیے۔
• علامہ بقاعی رحمہ اللہ (885ھ) فرماتے ہیں: «كَانَ كَذَّابًا، يَضَعُ الْحَدِيثَ.»
قاسم بن قطلو بغا سخت جھوٹا اور حدیثیں گھڑنے والا تھا۔"
[الضوء اللامع للسخاوي: 188/6]
• علامہ نیموی حنفی صاحب [1322ھ] فرماتے ہیں: «أَلْإِنْصَافُ أَنَّ هَذِهِ الزِّيَادَةَ، وَإِنْ كَانَتْ صَحِيحَةً لِوُجُودِهَا فِي أَكْثَرِ النُّسُخِ مِنَ الْمُصَنَّفِ، لَكِنَّهَا مُخَالِفَةٌ لِرِوَايَاتِ الثَّقَاتِ، فَكَانَتْ غَيْرَ مَحْفُوظَةٍ فَالْحَدِيثُ، وَإِنْ كَانَ صَحِيحًا مِّنْ حَيْثُ السَّنَدِ، لَكِنَّهُ ضَعِيفٌ مِّنْ جِهَةِ الْمَتْنِ.»
"انصاف کی بات یہ ہے کہ یہ زیادت اگرچہ مصنف کے اکثر نسخوں میں موجود ہونے کی وجہ سے صحیح ہے، مگر یہ ثقہ راویوں کی روایات کے خلاف ہے، لہذا غیر محفوظ ہے۔ لہذا یہ حدیث اگرچہ سند کے اعتبار سے صحیح ہے، مگر متن کے لحاظ سے ضعیف ہے۔"
[التعليق الحسن، ص 91]
یاد رہے کہ علامہ نیموی صاحب کا متعدد نسخوں میں اس زیادتی کے ثابت ہونے کا دعویٰ مبنی برحقیقت نہیں ہے۔ "تحت السرۃ" کے الفاظ کی یہ زیادت مصنف ابن ابی شیبہ کے کسی معتبر نسخہ میں موجود نہیں ہے، جب سرے سے ان الفاظ کا وجود ہی نہیں، تو ثقات کی روایت کے مخالف کیسے؟
*تنبیہ*
اگر کوئی کہے کہ علامہ نیموی صاحب نے اپنی اس عبارت سے رجوع کر لیا تھا اور تعلیق التعلیق میں لکھا ہے: «تُقْبَلُ هٰذِهِ الزِّيَادَةُ وَيَقَعُ التَّرْجِيحُ بَيْنَهَا وَبَيْنَ مُعَارِضِهَا، لِأَنَّ هٰذِهِ الزِّيَادَةَ أَرْفَعُ سَنَدًا مِنْ رِوَايَةِ عَلَى الصَّدْرِ الَّتِي أَخْرَجَهَا ابْنُ خُزَيْمَةَ.»
"یہ زیادت مقبول ہے۔ اس حدیث کو معارض حدیث پر ترجیح حاصل ہو جائے گی، کیونکہ اس روایت کی سند بہ نسبت ابن خزیمہ کی سینے والی روایت کی سند کے زیادہ بہتر ہے۔"
[تعليق التعليق، ص91]
جب "تحت السرة" کی زیادت مصنف ابن ابی شیبہ کے کسی معتبر نسخہ میں موجود ہی نہیں، سب سے پہلے علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی نے اسے دنیا میں متعارف کرایا، تو اسے علی الصدر کے الفاظ پر ترجیح دینے کا کیا معنی؟
• علامہ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب (1353ھ) کہتے ہیں: «فِي الْمُصَنَّفِ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةِ: تَحْتَ السُّرَّةِ، فَاضْطَرَبَتِ الرِّوَايَةُ جِدًّا، وَأَوَّلُ مَنْ نَبَّهَ عَلَى تِلْكَ الزِّيَادَةُ الْأَخِيرَةُ الْعَلَّامَةُ الْقَاسِمُ بْنُ قُطْلُوبُغَا، ثُمَّ إِنَّ لَفْظَ: تَحْتَ السُّرَّةِ، لَمْ يُوجَدْ فِي بَعْضِ نُسَخِهِ، فَظَنَّ الْمُلَّا حَيَاةُ السِّنْدِهِيُّ أَنَّهُ وَقَعَ فِيهِ سَقْطٌ وَحَذْفٌ، ثُمَّ صَارَ مَتْنُ الْأَثَرِ مَرْفُوعًا .
قُلْتُ: وَلَا عَجَبَ أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ، فَإِنِّي رَاجَعْتُ ثَلَاثَ نُسَخِ لِلْمُصَنَّفِ، فَمَا وَجَدْتُهُ فِي وَاحِدَةٍ مِّنْهَا .»
مصنف ابن ابی شیبہ میں «تحت السرة» کے الفاظ ہیں، یہ روایت سخت اضطراب کا شکار ہے۔ علامہ قاسم بن قطلوبغا حنفی (879ھ) نے سب سے پہلے ان الفاظ کی زیادتی بیان کی، پھر "تحت السرۃ" کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے بعض نسخوں میں نہیں پائے گئے، ملا حیات سندھی کا خیال ہے کہ اس حدیث میں سقط اور حذف واقع ہوا ہے، پھر یہی (قول تابعی کے) الفاظ مرفوع حدیث کا متن بن گئے۔ میں (انور شاہ) کہتا ہوں: ایسا ہو جانا کوئی تعجب والی بات نہیں، کیونکہ میں نے مصنف ابن ابی شیبہ کے تین نسخوں کا مراجعہ کیا ہے، لیکن کسی نسخہ میں بھی مجھے یہ الفاظ نہیں ملے۔"
[فيض الباري: 267/2]
• مفتی تقی عثمانی دیوبندی صاحب کہتے ہیں: لیکن احقر (مفتی تقی عثمانی) کی نظر میں اس روایت سے استدلال کمزور اول تو اس لیے کہ اس روایت میں "تحت السرة" کے الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ کے مطبوعہ نسخوں میں نہیں ملے، اگرچہ علامہ نیموی نے "آثار السنن میں متعدد نسخوں کا حوالہ دیا ہے کہ ان میں یہ زیادتی مذکور ہے، تب بھی اس زیادتی کا بعض نسخوں میں ہونا اور بعض میں نہ ہونا اس کو مشکوک ضرور بنادیتا ہے۔" [درس ترمذي: 23/2]
جب یہ زیادتی کسی معتبر نسخے میں موجود نہیں ہے، بقول مفتی تقی صاحب کسی مطبوعہ نسخے میں بھی نہیں مل سکی، جس کی بنا پر انہوں نے اس حدیث کو مشکوک اور اس سے استدلال کو کمزور قرار دیا ہے، پھر بھی بعض لوگوں نے تحریف سے کام لیتے ہوئے مصنف کے بعض مطبوعہ نسخوں میں "تحت السرۃ" کے الفاظ بڑھا دیئے ہیں، آخر ایسا کیوں ہے؟
[فتاوىٰ امن پوری، قسط: 540، صفحه: 15-20]
اصل مضمون دیکھیں . . . .
فتاوىٰ امن پوری، قسط: 540، صفحه: 15-20
درج بالا اقتباس ماہنامہ السنہ جہلم، حدیث/صفحہ نمبر: 999 سے ماخوذ ہے۔