حدیث نمبر: 39774
٣٩٧٧٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد اللَّه بن أبي طلحة عن أنس بن مالك أن هوازن (جاءت يوم حنين بالصبيان) (٢) ⦗١٠١⦘ والنساء والإبل والغنم، فجعلوها صفوفا يكثِّرون على رسول اللَّه ﷺ فلما التقوا ولى المسلمون كما قال اللَّه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "يا عباد اللَّه! أنا عبد اللَّه ورسوله"، ثم قال: "يا معشر المهاجرين! أنا عبد اللَّه ورسوله"، قال: فهزم اللَّه المشركين ولم يضرب بسيف (ولم) (٣) يطعن برمح، قال: وقال رسول اللَّه ﷺ يومئذ: "من قتل كافرا فله سلبه"، قال: فقتل أبو طلحة يومئذ عشرين رجلًا، فأخذ أسلابهم، وقال أبو قتادة: يا رسول اللَّه إني ضربت رجلا على (حبل العاتق) (٤) وعليه درع له (فاتخفضت) (٥) عنه، وقد قال حماد: فأعجلت عنه، قال: "فانظر من أخذها؟ " قال: فقام رجل فقال: أنا أخذتها فارضه منها وأعطنيها، وكان رسول اللَّه ﷺ لا يسأل شيئا إلا أعطاه أو سكت، فسكت رسول اللَّه ﷺ، قال: فقال عمر: لا واللَّه لا (يفيئها) (٦) اللَّه على أسد من أسده ويعطيكها، قال: فضحك رسول اللَّه ﷺ، (و) (٧) قال: "صدق عمر"، ولقي أبو طلحة أم سليم ومعها خنجر فقال أبو طلحة: يا أم سليم (ما) (٨) هذا معك؟ قالت: أردت إن دنا مني بعض المشركين أن أبعج به بطنه، فقال أبو طلحة: يا رسول اللَّه! ألا تسمع ما تقول أم سليم؟ قالت: يارسول اللَّه (قتل) (٩) (من) (١٠) بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك يا رسول اللَّه فقال: "إن اللَّه قد كفى وأحسن" (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن والے غزوہ حنین کے موقع پر (اپنے) بچوں عورتوں، اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لائے اور انہیں صفوں کی حالت میں جمع کردیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیادہ لگیں۔ پس جب آمنا سامنا ہوا ۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے اللہ کے بندو ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اے گروہ مہاجرین ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ “ راوی کہتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا ۔ کوئی تلوار نہیں ماری گئی اور نہ ہی کوئی نیزہ بازی کی گئی ۔ راوی کہتے ہیں : اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن ارشاد فرمایا : ” جو کسی کافر کو قتل کرے گا وہی اس کا سامان لے گا۔ “ حضرت انس کہتے ہیں، چناچہ اس دن حضر ت ابو طلحہ نے بیس (٢٠) آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے سامان کو لے لیا۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے ایک آدمی کو گردن پر تلوار مار کر ہلاک کیا اس کے جسم پر زرہ تھی لیکن مجھ سے پہلے ہی کسی نے وہ زرہ اتار لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دیکھ لو کس نے وہ زرہ لی ہے۔ راوی کہتے ہیں : ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے وہ زرہ لی ہے۔ آپ اس کو اس زرہ سے راضی کردیں۔ (یعنی چھوڑنے پر) اور یہ زرہ مجھے دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شئی کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ چیز عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے (یعنی انکار نہ کرتے) ۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ بات سن کر) خاموش ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ نہیں خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے ایک شیر پر سے یہ غنیمت نہیں ہٹائیں گے اور نہ یہ تجھے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” عمر نے سچ کہا ہے۔ “ حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم ! یہ آپ کے پاس کیا ہے ؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے ( آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا : ” یقینا اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔ “

حواشی
(١) في [ع، ي]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (جاءت بالصبيان يوم حنين).
(٣) في [ع]: (فلم).
(٤) في [س]: (جبل العانق).
(٥) في [أ، جـ، ي]: (فانخفضت)، وفي [ع]: (قد انخفصت)، وفي [ب]: (فانخفنت)، وفي [ق، هـ]: (فأجهضت).
(٦) في [س]: (يغنيها).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ب]: (جا).
(٩) في [ق]: (أقتل).
(١٠) سقط من: [ع].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب المغازي / حدیث: 39774
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٩٧٥)، ومسلم (١٨٠٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39774، ترقيم محمد عوامة 38154)