حدیث نمبر: 37885
٣٧٨٨٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي بن ميمون قال: حدثنا غيلان بن جرير عن صفوان بن محرز قال: وكانوا يجتمعون هو وإخوانه ويتحدثون فلا يرون تلك الرقة، قال: فيقولون: يا صفوان حدث أصحابك، قال: فيقول: الحمد للَّه، قال: (فيرق) (١) القوم وتسيل دموعهم كأنها أفواه المزاد (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت غیلان بن جریر، حضرت صفوان بن محرز کے بارے میں روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ حضرت صفوان اور ان کے بھائی اکٹھے ہوتے اور باہم گفتگو کرتے۔ لیکن وہ رقت کے آثار نہ دیکھتے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر لوگ کہتے۔ اے صفوان ! آپ اپنے ساتھیوں سے کوئی گفتگو کریں۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت صفوان کہتے۔ الحمد للہ۔ اس پر لوگوں پر رقت طاری ہوجاتی اور ان کے آنسو یوں بہہ پڑتے۔ گویا کہ مشکیزوں کے منہ ہیں۔

حواشی
(١) في [هـ]: (فبرق).
(٢) أي: القربة، والمزاد كذا في النسخ وهو الموافق لما في طبقات ابن سعد ٧/ ١٤٧، وتهذيب الكمال ١٣/ ٢١٢، وصفة الصفوة ٣/ ٢٢٨، وفي الحلية ٢/ ٢١٤: (المزادة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الزهد / حدیث: 37885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37885، ترقيم محمد عوامة 36300)