٣٧٥٢٣ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن (عمرو) (١) عن الماجشون ابن أبي سلمة قال: قال: (سعد) (٢) بن معاذ: ثلاث أنا فيما سواهن بعد ضعيف: ما سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول قولًا قط إلا علمت أنه حق، ولا صليت صلاة قط فألهاني عنها غيرها حتى أنصرف، ولا تبعت جنازة فحدثت نفسي بغير (ما) (٣) هي قائلة أو يقال لها حتى (نفرغ) (٤) (٥).حضرت ماجشون بن ابی سلمہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تین چیزوں کے علاوہ میں ابھی تک کمزور ہوں۔ میں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کبھی کوئی بات نہیں سنی مگر یہ کہ مجھے اس کے برحق ہونے کا علم ہوتا ہے اور میں نے کبھی کوئی نماز نہیں پڑھی کہ اس دوران مجھے کسی چیز نے اس سے غافل کیا ہو یہاں تک کہ میں نماز سے فارغ ہوجاؤں اور میں نے کسی جنازہ کی پیروی نہیں کی کہ میرے دل میں اس کے علاوہ کوئی بات ہو یہاں تک کہ ہم اس سے فارغ ہوجائیں۔ محمد راوی کہتے ہیں میں نے یہ بات امام زہری سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت سعد پر رحم کرے۔ وہ تو امن یافتہ تھے۔ میرے خیال میں تو ایسی حالت نبی کی ہوتی ہے۔