حدیث نمبر: 36736
٣٦٧٣٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن الحارث عن أبي (كثير) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال: يجمعون فيقال: أين فقراء هذه الأمة ومساكينها؟ قال: فيبرزون فيقال: ما عندكم؟ فيقولون: يا رب! ابتليتنا فصبرنا وأنت أعلم، قال: وأراه قال: ووليت الأموال والسلطان غيرنا، قال: فيقال: صدقتم فيدخلون الجنة قبل سائر الناس (بزمن) (٢)، ويبقى شدة الحساب على ذوي الأموال والسلطان، قال: قلت: فأين المؤمنون يومئذ؟ قال: يوضع لهم كراسي من نور (ويظلل) (٣) عليهم الغمام ويكون ذلك اليوم أقصر عليهم من ساعة من نهار (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن سب کو جمع کیا جائے گا پھر پکارا جائے گا اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ پھر ان کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا تمہارے پاس کیا ہے کیا لے کر آئے ہو ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ! آپ نے ہمیں مختلف مصیبتوں میں آزمایا ہم ثابت قدم رہے آپ کو معلوم ہے راوی فرماتے ہیں کہ میں ان کو دیکھ رہا ہوں، آپ نے اموال اور بادشاہت کو ہم سے پھیرے رکھا ان کو کہا جائے گا تم نے سچ کہا، ان کو تمام لوگوں سے قبل جنت میں داخل کردیا جائے گا اور حساب وکتاب کی شدت مالداروں اور بادشاہوں پر باقی رہے گی، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اس دن مومنین کہاں ہوں گے ؟ فرمایا ان کیلئے نور کی کرسی رکھی جائے گی، ان پر بادلوں کا سایہ ہوگا، اور وہ دن ان پر دن کی گھڑی سے بھی کم وقت میں گزر جائے گا۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (بكر)، وفي [ع]: بياض.
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ].
(٣) في [أ، ب، ط]: (ونطال)، وفي [جـ]: (ويطال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36736
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أبو كثير هو زهير بن الأقمر وثقه النسائي، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٦٤٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٨٩ و ٧/ ٢٠٦، وورد مرفوعًا أخرجه ابن المبارك، وابن حبان (٧٤١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36736، ترقيم محمد عوامة 35162)