حدیث نمبر: 36672
٣٦٦٧٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (١) حسان عن مغيث بن سمي في قوله: ﴿طُوبَى﴾ قال: هي شجرة في الجنة، ليس (من أهل الجنة) (٢) دار إلا يظلهم غصن من أغصانها، فيها من ألوان الثمر، وتقع عليها طير أمثال البخت، قال: فإذا اشتهى الرجل الطائر دعاه فيجيء حتى يقع على (خوانه) (٣)، قال: فيأكل من أحد جانبيه قديدًا، ومن الآخر شواء، ثم يعود كما كان فيطير.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مغیث ابن سمی، اللہ کے ارشاد ” طوبیٰ “ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ جنت کا ایک درخت ہے جنت کا کوئی گھر ایسا نہیں ہے مگر اس کی ٹہنیوں نے اس پر سایہ کیا ہوا ہے اس میں طرح طرح کے پھل ہیں اس پر اونٹ کے مثل پرندے ہیں جب کوئی جنتی کسی پر ندے کو کھانے کی خواہش کرے گا تو اس کو پکارے گا، وہ پر ندہ خود بخود اس کے دستر خوان پر آجائے گا، پھر وہ کھائے گا اس کی ایک جانب گوشت پکا ہوا اور دوسری جانب بھنا ہوگا، پھر وہ دوبارہ لوٹ جائے گا اور وہ پرندہ اسی طرح اڑنا شروع کر دے گا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي).
(٢) في [هـ]: (في الجنة أهل).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (أخوانه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنة / حدیث: 36672
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36672، ترقيم محمد عوامة 35099)