٣٦٠٩٣ - حدثنا عفان قال: (ثنا) (١) أبو عوانة قال: حدثنا المغيرة عن سماك بن سلمة أن المسلمين لما فتحوا تستر وضعوا بها وضائع المسلمين، وتقدموا لقتال عدوهم، قال: فغدر بهم دهقان تستر فأحمى لهم تنورًا، وعرض عليهم لحم الخنزير و (الخمر) (٢) أو التنور، قال: فمنهم من أكل فترك، قال: فعرض على (نهيت) (٣) ابن الحارث (الضبي) (٤) فأبى، فوضع في التنور، قال: ثم إن المسلمين رجعوا فحاصروا أهل المدينة حتى صالحوا الدهقان، فقال ابن أخ (لنهيت) (٥) لعمه: يا عماه هذا قاتل (نهيت) (٦)، قال: يا ابن أخي إن له ذمة.حضرت سماک بن سلمہ فرماتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے تستر کو فتح کیا اور دشمن سے قتال کے لئے آگے بڑھ گئے تو وہاں کے ایک مالدار آدمی نے مسلمان مجاہدین سے غداری کی اور انہیں گرفتار کرلیا۔ پھر اس نے ایک تنور جلایا اور ان کے ساتھ خنزیر کا گوشت اور شراب رکھی اور ان سے کہا کہ یا تو یہ کھالو یا تنور میں ڈال دیئے جاؤ گے۔ چناچہ جس نے شراب پی لی اور خنزیر کا گوشت کھالیا اسے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت نہیب بن حارث کے سامنے یہ چیزیں پیش کی گئیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اور اس پر انہیں تنور میں ڈال دیا گیا مسلمان جب جنگی مہمات سے واپس آئے اور شہر کا محاصرہ کیا اور تستر والوں سے صلح ہوئی تو اس مالدار آدمی سے بھی صلح ہوگئی۔ ایک دن حضرت نہیب کے بھتیجے نے اپنے چچا سے کہا کہ اے چچا جان یہ آدمی نہیب کا قاتل ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے عہد میں آچکے ہیں اس لئے اب ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جب اس سارے واقعہ کی اطلاع حضرت عمر کو ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نہیب پر رحم فرمائے اگر وہ مجبوری میں جان بچانے کے لئے وہ چیزیں کھالیتے تو کوئی گناہ نہ ہوتا۔