حدیث نمبر: 35993
٣٥٩٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: عبر أبو عبيد بن مسعود يوم مهران في أناس فقطع بهم (الجسر) (١)، فأصيبوا، قال: قال قيس: فلما كان يوم مهران قال أناس فيهم خالد بن عرفطة لجرير: يا جرير، لا واللَّه لا (نريم) (٢) عن عرصتنا هذه، فقال: اعبريا جرير بنا إليهم، فقلت: أتريدون أن تفعلوا بنا ما فعلوا بأبي عبيد إنا قوم لسنا (بسبّاح) (٣) أن نبرح أو أن نريم العرصة حتى يحكم اللَّه بيننا وبينهم، فعبره المشركون فأصيب يومئذ مهران (وهو) (٤) (عند) (٥) النخيلة (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبید بن مسعود مہران کی جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ تھے۔ ان کے گزرنے کے بعد پل کو کاٹ دیا گیا اور وہ شہید کردیئے گئے۔ حضرت قیس فرماتے ہیں کہ مہران کی جنگ میں کچھ لوگوں نے جن میں حضرت خالد بن عرفطہ بھی شامل تھے۔ حضرت جریر سے کہا کہ اے جریر ! ہم تو اپنی جگہ ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اے جریر ! ہمیں یہ دریا عبور کرنا چاہئے۔ میں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ وہ ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ کریں جو انہوں نے ابو عبید کے ساتھ کیا ہے۔ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو تیراکی نہیں جانتی۔ ہم اپنا علاقہ اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک اللہ تعالیٰ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ فرمادے۔ پس مشرکین نے اسے عبور کیا اور اس دن مہران مارا گیا اس وقت وہ نخیلہ نامی مقام میں تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (الجيش).
(٢) في [أ، ب]: (نرلم).
(٣) أي: لا نعرف السباحة، وفي [أ، ب]: (بساح)، وفي [هـ]: (لساح).
(٤) في [هـ]: (هم).
(٥) في [أ، ب]: (عبد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35993، ترقيم محمد عوامة 34426)