حدیث نمبر: 35969
٣٥٩٦٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا سلام بن مسكين عن ابن سيرين قال: كان عمر إذا استعمل رجلًا كتب في عهده: اسمعوا له وأطيعوا ما عدل فيكم، قال: فلما استعمل حذيفة كتب في عهده: أن اسمعوا له وأطيعوا وأعطوه ما سألكم قال: فقدم حذيفة المدائن على حمار على إكاف بيده رغيف (وغرقة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جس کسی کو عامل مقرر فرماتے تو اس کے متعلق لکھتے کہ جب تک تمہارے درمیان انصاف سے کام لے ان کی اطاعت کرو، جب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر فرمایا تو ان کے متعلق لکھا کہ ان کی اطاعت کرو جس کا تم سے سوال کریں ان کو دے دو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ گدھے پر تشریف فرما ہو کر کر مدائن اس حال میں تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا او گوشت تھا۔ ان کو سلام کیا اور ان کے سامنے عہد نامہ پڑھ کر سنایا لوگوں نے عرض کی سوال کیجئے انہوں نے فرمایا کہ میں تم سے اپنے کھانے کیلئے کھانا اور اس گدھے کیلئے چارہ مانگتا ہوں، پھر وہ انہیں میں رہے جتنا اللہ نے چاہا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو تحریر فرمایا آگے بڑھیں پس حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نکل پڑے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب ان کے آنے کی خبر ملی تو اس جگہ پہنچے جہاں سے انہیں آتا ہوا دیکھ سکیں پھر جب ان کو اسی حال میں دیکھا جس حال میں وہ ان کے پاس سے نکلے تھے ایسے ہی واپس لوٹے ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو گلے لگایا اور فرمایا آپ میرے بھائی ہیں اور میں آپ کا بھائی ہوں۔

حواشی
(١) أي: قطعة لحم، وفي [هـ]: (عرق).
(٢) منقطع؛ ابن سيرين لا يروي عن عمر، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زوائد الزهد ١/ ١٨١، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٧، والبيهقي ٦/ ٢٩١، وابن عساكر ١٢/ ٢٨٥، والخلال في السنة (٥٥)، وهناد في الزهد (٨٠٩).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35969
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35969، ترقيم محمد عوامة 34405)