حدیث نمبر: 35964
٣٥٩٦٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال: قال لي عمر: يا أبا أمية، إني لا أدري لعلي (أن) (١) لا ألقاك بعد عامي هذا، فاسمع وأطع وإن أمر عليك عبد حبشي مجدع، إن ضربك فاصبر (وإن حرمك فاصبر) (٢) وإن أراد أمرا ينتقص دينك فقل: سمع وطاعة، دمي دون ديني، فلا تفارق الجماعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے ابو امیہ رضی اللہ عنہ مجھے نہیں معلوم کہ اس سال کے بعد تمہارے ساتھ ملاقات بھی ہو کہ نہ ہو، اپنے امیر کی اطاعت کرو اگر چہ ایک کان کٹا حبشی غلام تمہارا امیر ہو، اگر وہ تمہیں مارے تو صبر کرو، اور تمہیں کسی چیز سے محروم کرے تو صبر کرو، اور اگر وہ کسی ایسے کام کا ارادہ کرے جس سے تمہارے دین میں نقص آرہا ہو تو اس کو کہہ دو ، سننا اور اطاعت کرنا ہے، میرا خون قربان ہے میرے دین پر اور جماعت سے علیحدہ مت ہونا۔

حواشی
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35964
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الخلال في السنة (٥٤)، ونعيم في الفتن (٣٨٩)، والبيهقي ٨/ ١٥٩، وأبو عمر المقري في السنن الواردة في الفتن (١٤٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35964، ترقيم محمد عوامة 34400)