مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في إمام السرية يأمرهم بالمعصية، من قال: لا طاعة له باب: سریہ کا امیر اگر گناہ کے کام کا حکم دے تو اس کی اطاعت نہیں ہو گی
٣٥٩٦١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن عمر بن الحكم ابن ثوبان عن أبي سعيد الخدري أن رسول اللَّه ﷺ بعث علقمة بن (مجزز) (١) على بعث أنا فيهم، فلما انتهى إلى رأس (عرانة) (٢) أو (كان) (٣) ببعض الطريق أستأذنته طائفة من الجيش فأذن لهم وأمر عليهم عبد اللَّه بن حذافة بن قيس السهمي، فكنت فيمن غزا معه، (فلما كان ببعض الطريق) (٤) أوقد القوم نارًا ليصطلوا أو ليصنعوا (عليها) (٥) صنيعًا، وقال عبد اللَّه وكانت فيه دُعابة: أليس لي عليكم السمع والطاعة؟ قالوا: بلى، قال: فما أنا آمركم بشيء إلا صنعتموه؟ قالوا: نعم، قال: فإني أعزم عليكم إلا تواثبتم في هذه النار، فقام ناس فتحجزوا، فلما ظن أنهم واثبون قال: أمسكوا على أنفسكم، فإنما (كنت) (٦) أمزح معكم، فلما قدمنا ذكروا ذلك لرسول اللَّه ﷺ فقال: "من أمركم منهم بمعصية فلا تطيعوه" (٧).حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کا امیر بنا کر بھیجا اس لشکر میں میں بھی شریک تھا جب راستہ میں پہنچے تو لشکر میں سے ایک جماعت نے ان سے اجازت لی، انہوں نے اجازت دے دی اور ان پر حضرت عبد اللہ بن حذافہ السھمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر فرما دیا میں بھی اسی میں ان کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل تھا۔ جب راستہ میں تھے تو لوگوں نے کھچ بنانے کیلئے آگ جلائی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ میں مزاح کرنے کی عادت تھی آپ نے فرمایا : کیا تم پر لازم نہیں ہے کہ تم میری اطاعت کرو ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہیں کسی کام کا حکم کروں گا تو تم اس کو بجا لاؤ گے ؟ لوگوں نے عرض کیا جی ہاں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تمہارے متعلق ارادہ کیا ہے کہ تم اس آگ میں کود جاؤ سارے لوگ کھڑے ہوگئے اور کود نے کیلئے تیار ہوگئے، جب ان کو یقین ہوگیا کہ وہ اس میں کود پڑیں گے تو فرمایا : اپنے آپ کو روک لو، میں تمہارے ساتھ مزاح کر رہا تھا، پھر جب ہم لوگ واپس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تمہیں گناہ کے کام کا حکم کریں اس کی اطاعت مت کرو۔