حدیث نمبر: 35959
٣٥٩٥٩ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن سعد بن عبيدة عن أبي عبد الرحمن السلمي عن علي قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية واستعمل عليهم رجلًا من الأنصار، فأمرهم أن يسمعوا له ويطيعوا، قال: فأغضبوه في شيء فقال: اجمعوا لي حطبا، (فجمعوا له حطبا) (١)، قال: أوقدوا (٢) نارًا، فأوقدوا نارا، قال: ألم يأمركم أن تسمعوا لي وتطيعوا؟ قالوا: بلى، قال: فادخلوها، قال: فنظر بعضهم إلى بعض وقالوا: إنما فررنا إلى رسول اللَّه ﷺ من النار، قال: فبينما هم كذلك إذ سكن غضبه وطَفِئت النار، قال: فلما قدموا على النبي ﷺ ذكروا ذلك له فقال: "لو دخلوها ما خرجوا منها، إنما الطاعة في المعروف" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک سریہ روانہ فرمایا اور ایک انصاری کو ان کا امیر مقرر فرمایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کی بات مانیں اور اس کی اطاعت کریں امیر کو کسی معاملہ میں لشکر والوں پر غصہ آیا، اس نے حکم دیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرو، انہوں نے اس کیلئے لکڑیاں جمع کیں اس نے حکم دیا کہ آگ جلا دو انہوں نے آگ لگا دی، اس نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں حکم نہ دیا گیا تھا کہ تم میری بات سنو گے اور اطاعت کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں ؟ امیر نے حکم دیا کہ پھر آگ میں داخل ہوجاؤ، راوی کہتے ہیں کہ ان میں سے بعض نے بعض کی طرف دیکھا اور کہا : بیشک ہمیں آگ سے رسول اکرم ﷺ کی طرف بھاگنا چاہیے راوی کہتے ہیں کہ اس حالت میں تھے کہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور آگ بجھ گئی فرماتے ہیں کہ پھر جب ہم رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں واپس آئے تو اس واقعہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو اس میں سے نکل نہ پاتے، امیر کی اطاعت صرف نیکی میں ہے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [أ، ب]: زيادة (لي).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35959
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٤٠)، وأحمد (١٠١٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35959، ترقيم محمد عوامة 34395)