٣٥٩٣٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: حدثني عبد اللَّه بن عمر أنه كان في سرية من سرايا رسول اللَّه ﷺ فحاص الناس حيصة (فكنت) (١) فيمن حاص، قال: فقلنا حين فررنا (من الزحف) (٢): (كيف نصنع؟) (٣) وقد (فررنا من الزحف) (٤)، وبُؤنا بالغضب، فقلنا: ندخل المدينة فنبيت بها، فلا يرانا أحد، قال: فلما دخلنا قلنا: لو عرضنا أنفسنا على رسول اللَّه ﷺ، فإن كانت لنا توبة أقمنا، وإن كان غير ذلك ذهبنا، قال: فجلسنا إلى رسول اللَّه ﷺ قبل صلاة الغداة، فلما خرج قمنا إليه فقلنا: يا رسول اللَّه نحن الفرارون، قال: فأقبل علينا فقال: "بل أنتم العكارون"، (قال) (٥): فدنونا ⦗٥٣٥⦘ فقبلنا يده وقلنا يا رسول اللَّه: أردنا أن نفعل وأن نفعل، قال: "أنا فئة (المسلمين) (٦) " (٧).حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ ایک سریہ میں شریک تھے، لوگوں نے بھاگنے کیلئے چکر لگانا شروع کردیئے فرماتے ہیں کہ میں بھی بھاگنے والوں میں سے تھا، جنگ سے فرار ہوتے وقت ہم نے کہا ہم کیا کریں کہ ہم جنگ سے فرار ہو رہے ہیں اور اللہ کے غضب کے مستحق ہو کر لوٹ رہے ہیں ؟ ہم نے کہا کہ مدینہ چلتے ہیں اور وہاں رات گزارتے ہیں کہ کوئی ہمیں نہ دیکھے، راوی کہتے ہیں کہ پھر جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے کہا کہ اگر ہم اپنے آپ کو اللہ کے نبی ﷺ کے سامنے پیش کردیں تو بہتر ہے اگر تو ہمارے لیے توبہ کی گنجائش ہے تو ہم اسی پر رہیں اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور معاملہ ہے تو ہم واپس چلتے ہیں، ہم رسول اکرم ﷺ کے پاس صبح کی نماز سے قبل بیٹھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم جنگ سے فرار ہونے والوں میں سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : بلکہ تم بھاگ کر دوبارہ لوٹنے والے ہو، راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب ہوئے تو ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم بھی اسی طرح کرنے کا ارادہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں مسلمانوں کا مدد گار ہوں۔