مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
في الغزو بالنساء باب: خواتین کو جنگ میں لے کر جانا (خواتین کا جنگ میں شریک ہونا)
٣٥٩٠٤ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن الأسود بن قيس قال: حدثني سعيد بن (عمرو) (١) القرشي أن أم كبشة امرأة من بني عذرة عذرة قضاعة قالت: يا رسول اللَّه ائذن لي أن أخرج في جيش كذا وكذا قال: لا، قلت: يا ⦗٥٢٥⦘ رسول اللَّه إني لست أريد أن أقاتل، إنما أريد أن أداوي الجريح والمريض، أو أسقي المريض، فقال: لولا أن (تكون) (٢) سنة ويقال: فلانة خرجت، لأذنت لك ولكن اجلسي (٣).حضرت سعید بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو عذرہ کی خاتون ام کبشہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دے دیں کہ میں فلاں فلاں لشکر میں ساتھ جاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں لڑنے کے ارادے سے نہیں جا رہی میں مریضوں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور مریض کو پانی پلانے کے ارادہ سے جانا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر یہ عادت نہ بن جاتی اور کہا جاتا کہ فلاں خاتون جہاد میں گئی تھی تو میں تجھے اجازت دے دیتالیکن بیٹھی رہ، (ساتھ مت جا) ۔