مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
ما يقول الرجل إذا خرج مسافرا؟ باب: جب کوئی شخص سفر پر جانے لگے تو کون سی دعائیں پڑھے
٣٥٨٧٦ - [حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: كانوا يقولون في السفر: اللهم بلاغًا يبلغ خير مغفرة منك ورضوانا، بيدك الخير إنك على كل شيء قدير، اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة على الأهل، اللهم اطو لنا الأرض وهون علينا السفر، اللهم إنا نعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنقلب وسوء النظر في الأهل والمال] (١).ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م سفر پر جاتے وقت یہ دعا پر ھتے، اللَّہُمَّ بَلاَغًا یُبْلَغُ خَیْرُ ، مَغْفِرَۃٍ مِنْک وَرِضْوَانًا ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ ، إِنَّک عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ ، وَالْخَلِیفَۃُ عَلَی الأَہْلِ ، اللَّہُمَّ اطْوِ لَنَا الأَرْضَ ، وَہَوِّنْ عَلَیْنَا السَّفَرَ ، اللَّہُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِکَ مِنْ وَعْثَائِ السَّفَرِ ، وَکَآبَۃِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوئِ الْمَنْظَرِ فِی الأَہْلِ وَالْمَالِ ۔ اے اللہ ! بہترین مغفرت اور رضامندی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے۔ ساری خیریں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ تو سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا محافظ ہے۔ اے اللہ ! زمین کو ہمارے لیے سکیڑ دے اور سفر کو ہمارے لیے آسان فرما۔ اے اللہ ! ہم سفر کی مشقت، برے منظر اور اہل و عیال کی بری حالت سے تیری پناہ چاہتے ہیں۔