حدیث نمبر: 35829
٣٥٨٢٩ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: ثنا هشام بن سعد قال: حدثني قيس بن (بشر) (١) (التغلبي) (٢) قال: كان أبي جليس أبي الدرداء بدمشق، وكان بدمشق رجل من أصحاب رسول اللَّه ﷺ يقال له: ابن (الحنظلية) (٣) من الأنصار، فمر بنا ذات يوم ونحن عند أبي الدرداء، فقال أبو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا (تضرك) (٤)، ⦗٥٠٤⦘ قال: بعث رسول اللَّه ﷺ سرية فقدمت، فأتى رجل منهم فجلس في المجلس الذي (٥) فيه رسول اللَّه ﷺ فقال لرجل إلى جنبه: لو رأيتنا حين لقينا العدو وحمل فلان فطعن فقال: خذها وأنا الغلام الغفاري، فقال: ما أراه إلا قد (أبطل) (٦) أجره، فقال: ما أرى بذلك بأسًا، قال: فتنازعوا في ذلك واختلفوا حتى سمع ذلك النبي ﷺ فقال: "سبحان اللَّه، لا بأس أن يؤجر (و) (٧) يحمد"، فرأيت أبا الدرداء سر بذلك حتى يرتفع حتى أرى أنه سيبرك على ركبتيه ويقول: أنت سمعته من رسول اللَّه ﷺ؟ فيقول: نعم (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت قیس بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد دمشق میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے، دمشق میں ایک ابن الحنظلیہ نامی انصاری صحابی تھے، ایک دن جب میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس تھا تو وہ ہمارے پاس سے گزرے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی بات سنائیے جو ہمیں تو فائدہ دے لیکن آپ کو نقصان نہ دے انہوں نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ جہاد کیلئے بھیجا جب وہ واپس آیا تو ان میں سے ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں آ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر بعد اپنے ساتھ والے شخص سے کہا : اگر آپ وہ منظر دیکھ لیتے جب ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی فلاں شخص نے یہ کہہ کر دشمن کو نیزہ مارا کہ یہ لو میں غفاری غلام ہوں، دوسرے شخص نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس نے اپنا اجر ضائع کردیا ہے، اور پہلے والے شخص نے کہا کہ میرے خیال میں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ان کا اس معاملہ میں تنازعہ ہوگیا اور اختلاف ہوگیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک بھی بات پہنچ گئی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ (بطور تعجب) کوئی حرج نہیں ہے کہ ان کو اجر دیا جائے گا اور اس کی تعریف کی جائے گی راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ اس کو سن کر بہت خوش ہوئے یہاں تک کہ آپ اوپر اٹھے اور قریب تھا کہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دریافت کیا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے خود رسول اکرم ﷺ سے یہ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے خود سنا ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (بشير).
(٢) في [ب]: (الثعلبي).
(٣) في [ط، هـ]: (حنظلية).
(٤) في [هـ]: (يضرك).
(٥) في [هـ]: زيادة (يجلس).
(٦) في [ط، هـ]: (بطل).
(٧) في [أ، ط، هـ]: (أو).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35829
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ هشام بن سعد صدوق، أخرجه أحمد ٤/ ١٧٩ (١٧٦٥٩)، وأبو داود (٤٠٨٩)، والحاكم ٢/ ١٠١، وابن أبي عاصم في الجهاد (٢٤٤)، وابن المبارك في الزهد (٥٨٣)، والبيهقي في الشعب (٦٢٠٤)، والطبراني (٥٦١٦)، وابن عساكر ١٠/ ٢٥٠، والمزي ٤/ ١٤٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35829، ترقيم محمد عوامة 34266)