حدیث نمبر: 35783
٣٥٧٨٣ - حدثنا (محمد بن فضيل عن) (١) محمد بن إسحاق عن يزيد بن خصيفة عن سالم مولى مطيع عن أبي هريرة قال: أهدى رفاعة إلى رسول اللَّه ﷺ غلامًا، فخرج (به معه) (٢) إلى خيبر، فنزل بين العصر والمغرب فأتى الغلام سهم (عائر) (٣) فقتله، فقلنا: هنيئا (لك) (٤) الجنة، فقال: "والذي نفسي بيده إن شملته لتحرق عليه الآن في النار كلها من المسلمين"، فقال رجل من الأنصار: يا رسول اللَّه (أصبت) (٥) ⦗٤٩٣⦘ يومئذ شراكين، فقال: "يقد (منك) (٦) (مثلهما) (٧) من نار جهنم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت رفاعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غلام ہدیہ دیا، وہ غلام جنگ خیبر میں ساتھ گیا وہ عصر اور مغرب کے درمیان جنگ میں اترا، غلام کو ایک تیر لگا جس کے مارنے والے کا پتہ نہیں تھا، لیکن وہ شہید ہوگیا ہم نے کہا تمہارے لیے جنت کی خوشخبری ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اس کی چادر اس کو آگ میں جلا رہی ہوگی جو اس نے مسلمانوں کے مال میں سے خیانت کی تھی، ایک انصاری شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میں نے اس دن دو تسمے پائے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کی مثل تجھے جہنم کی آگ سے کاٹا جائے گا۔

حواشی
(١) في [جـ]: (سميل).
(٢) في [هـ]: (بدمعه).
(٣) أي: لا يدرى من رماه، وفي [جـ]: (غائر).
(٤) في [هـ]: (له).
(٥) في [أ، ب]: (أصيب).
(٦) في [أ، ب]: (فيك).
(٧) في [أ، ب]: (مثلها).
(٨) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس، أخرجه ابن حبان (٤٨٥٢)، وقد ورد من حديث ابن إسحاق عن ثور بن زيد عن سالم، أخرجه إسحاق (٥٣٣)، والحاكم ٣/ ٤٥، والخطيب في الأسماء المبهمة ٤/ ٢٨٩، وابن الأثير في أسد الغابة ٥/ ١٣٨، وابن إسحاق في السيرة ٤/ ٣١٠، وصرح ابن إسحاق بالسماع عندهم، وأصله عند البخاري (٤٢٣٤)، ومسلم (١١٥).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35783
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35783، ترقيم محمد عوامة 34223)