٣٥٧٨٠ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن إسماعيل بن أبي خالد عن قيس ابن أبي حازم عن عدي بن عميرة الكندي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيها الناس من عمل لنا منكم على عمل فكتمنا (١) مخيطا فما فوقه فهو غل يأتي به يوم القيامة"، قال: فقام إليه رجل من الأنصار أسود كأني أراه فقال: أقبل عني ⦗٤٩٢⦘ عملك يا رسول اللَّه، قال: "ما ذاك؟ "، قال: سمعتك تقول الذي قلت، قال: "وأنا أقوله الآن من استعملناه على عمل فليجئنا بقليله وكثيره، فما أوتي منه أخذ، وما نهي عنه انتهى" (٢).حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جو تم میں سے ہمارے لیے کسی معاملہ میں حاکم یا عامل بنے، پھر وہ ہم سے کوئی سوئی یا اس سے بڑی چیز چھپالے تو یہ خیانت ہے وہ قیامت کے دن اس کو لے کر حاضر ہوگا ایک سیاہ انصاری شخص کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور کہا اے اللہ کے رسول ! مجھے اپنا عامل بنانا واپس لے لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کس وجہ سے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ سے وہ سنا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی فرمایا ہے اس وجہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تو اب بھی کہتا ہوں کہ جو تم میں سے کسی معاملہ پر عامل بنایا گیا تو اس کو چاہئے کہ جو تھوڑا یا زیادہ ہے وہ ہمارے پاس لے آئے، جو اس کو دیا جائے وہ وصول کرے جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔