حدیث نمبر: 35778
٣٥٧٧٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه أن أبا (حميد) (١) الساعدي صاحب رسول اللَّه ﷺ أخا بني ساعدة حدثه أن رسول اللَّه ﷺ استعمل (ابن) (٢) (اللتبية) (٣) فقال: "والذي نفسي بيده، لا يأخذ أحدكم منها شيئا بغير حقه إلا جاء اللَّه يحمله يوم القيامة، فلا أعرفن أحدا جاء اللَّه يحمل بعيرا له رغاء، أو بقرة لها خوار أو شاة (تيعر) (٤) "، ثم رفع يديه حتى إني أنظر إلى بياض أبطيه، ثم قال: " (اللهم هل بلغت) (٥) "، ثم قال أبو حميد: بصر عيني وسمع أذني (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو امیر بنایا تو ان سے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی شخص کوئی چیز ناحق وصول نہیں کرے گا مگر قیامت کے دن اس کے دربار میں لے کر حاضر ہوگا میں اس شخص کو ضرور جانتا ہوں جو اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا، اور اونٹ کا بوجھ اٹھایا ہوگا اس کیلئے اونٹ کی آواز ہوگی یا گائے کو اٹھایا ہوگا اور اس کیلئے گائے کی آواز ہوگی یا بکری کا بوجھ لا دے ہوگا اور اس کی آواز ہوگی، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک مہمان کی طرف اٹھائے آپ نے اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ میں آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا ہے حضرت ابو حمید فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے یہ منظر دیکھا اور میری کانوں نے یہ پیغام سنا۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (سعيد).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب]: (الليثية)، وفي [جـ]: (اللثبية).
(٤) في [جـ]: (بيعر).
(٥) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب السير / حدیث: 35778
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٧١٧٤)، ومسلم (١٨٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35778، ترقيم محمد عوامة 34218)