مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
الرجل يحمل على الشيء في سبيل الله متى يطيب لصاحبه؟ باب: کوئی شخص اﷲ کے راستہ میں کسی چیز پر سوار ہو تو وہ جانور کب اس کیلئے حلال ہو گا
حدیث نمبر: 35747
٣٥٧٤٧ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا عبيد اللَّه عن نافع قال: كان ابن عمر إذا حمل على بعير في سبيل اللَّه اشترط على صاحبه أن لا يهلكه حتى يبلغ وادي القرى أو حذاه من طريق مصر، فإذا خلف ذلك فهو كهيئة ماله يصنع ما شاء (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب کسی کو جہاد کیلئے گھوڑے پر سوار کرتے تو اس پر یہ شرط لگاتے کہ وادی قریٰ یا شہر کے راستے میں اس کے برابر پہنچنے سے قبل اس کو ہلاک نہ کرے، جب اس جگہ کو پیچھے چھوڑ دے تو وہ اس کے اپنے مال کی طرح ہے جو چاہے اس کے ساتھ کرے۔