٣٥٧٢٦ - حدثنا ابن فضيل عن (وقاء) (١) الأسدي عن أبي ظبيان قال: كنا مع سلمان الفارسي في غزاة إما في جلولاء وإما في نهاوند، قال: فمر رجل وقد جنى فاكهة، قال: فجعل يقسمها بين أصحابه، فمر سلمان فسبه، فرد على سلمان وهو لا يعرفه، قال: فقيل له: هذا سلمان، فرجع إلى سلمان يعتذر إليه، فقال له الرجل: ما يحل لأهل الذمة يا أبا عبد اللَّه؟ فقال: ثلاث: من عماك إلى هداك، ومن فقرك إلى غناك، وإذا صحبت الصاحب منهم تأكل من طعامه ويأكل من طعامك، وتركب دابته ولا تصرفه عن وجه يريده (٢).حضرت ابو ظبیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا تو جنگ جلولاء تھی یا پھر جنگ نھاوند۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے پھل توڑے ہوئے تھے، اس نے ساتھیوں کے درمیان ان کو تقسیم کرنا شروع کردیا، حضرت سلمان وہاں سے گزرے تو آپ نے اس کو برا بھلا کہا، اس نے بھی حضرت سلمان کو برا کہا نہ پہچاننے کی وجہ سے، اس کو بتایا گیا کہ یہ حضرت سلمان ہیں تو وہ حضرت سلمان کے پاس معذرت کے لیے گیا، پھر ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ ! اے ابو عبد اللہ ! ذمیوں کیلئے کیا چیز حلال ہے ؟ حضرت سلمان نے فرمایا تین چیزیں۔ تمہاری گمراہی سے ہدایت یافتہ ہونے تک تمہارے فقر سے مالداری تک، جب ان میں سے کوئی تمہارے ساتھ ہو تو تم اس کے کھانے میں سے استعمال کرلو اور وہ تمہارے کھانے میں سے، اور تم اس کی سواری پر سوار ہوجاؤ، (اور وہ تمہاری سواری پر) اور وہ چاہتا ہو تو اس سے چہرہ کو مت پھیرو۔