٣٥٦٤٥ - حدثنا وكيع بن الجراح قال: ثنا شعبة عن أبي (الفيض) (١) عن سليم ابن عامر قال: كان بين معاوية وبين (قوم) (٢) من الروم عهد، فخرج معاوية يسير في أرضهم كي (ينقضوا) (٣) فيغير عليهم، فإذا رجل ينادي في ناحية العسكر: وفاء لا ⦗٤٥٧⦘ غدر، وفاء لا غدر، فإذا هو (عمرو) (٤) بن (عبسة) (٥)، قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من كان بينه وبين (قوم) (٦) عهد فلا (يشد) (٧) (عقدة) (٨) ولا يحلها حتى يمضي أمدُها، أو ينبذ إليهم على سواء" (٩).حضرت سلیم سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ اور رومیوں کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ تھا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے علاقہ کی طرف پیش قدمی کی تاکہ جب معاہدہ کی مدت ختم ہو تو ان پر اچانک حملہ کردیں، اچانک لشکر کے ایک طرف سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آیا کہ وفاء لا غدر، عہد کو پورا کرو دھوکا مت دو ، وہ حضرت عمرو بن عبسہ تھے، انہوں نے فرمایا میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ : جس کا کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہو تو وہ اس کی گرہ کو نہ باندھے اور نہ ہی کھولے، یہاں تک کہ مدت مقررہ پوری ہو کر گزر جائے یا ان کا عہد برابری کے طور پر ان کی طرف پھینک کر ختم کردو۔