مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كره أن يعطى في الأمان ذمة الله باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ امان میں اﷲ کا ذمہ دیا جائے
حدیث نمبر: 35644
٣٥٦٤٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا الأعمش عن أبي وائل قال: أتانا كتاب عمر ونحن بخانقين: إذا حاصرتم قصرا فأرادوكم على أن ينزلوا على حكم اللَّه فلا تنزلوهم، فإنكم لا تدرون تصيبون فيهم (حكم اللَّه) (١) أم لا، ولكن أنزلوهم على حكمكم، ثم اقضوا فيهم (٢) بعدُ ما شئتم (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ خانقین میں تھے ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب گرامی آیا، جس میں تحریر تھا کہ : جب تم لوگ کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور پھر ان کو اللہ کے حکم پر (امان دے کر) اتارنا چاہو تو ایسا مت کرو، کیوں کہ تم لوگ نہیں جانتے کہ تم اس میں اللہ کا حکم پاتے بھی ہو کہ نہیں، بلکہ ان کو اپنے حکم اور امان میں اتا رو، پھر اس کے بعد جو چاہو ان کے ساتھ معاملہ کرو۔
حواشی
(١) في [أ، ط، هـ]: (حكمه).
(٢) في [جـ]: زيادة (هم) في الحاشية.