مصنف ابن ابي شيبه
كتاب السير
من كره أن يعطى في الأمان ذمة الله باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ امان میں اﷲ کا ذمہ دیا جائے
٣٥٦٤٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن النبي ﷺ كان إذا بعث أميرا على جيش أو سرية أوصاه فقال: "إذا حاصرتم أهل حصن فأرادوكم على أن (تجعلوا) (١) لهم ذمة اللَّه وذمة (رسول اللَّه) (٢) ﷺ فلا تجعلوا لهم ذمه اللَّه ولا ذمة رسوله، ولكن اجعلوا لهم ذمتكم وذمة أبائكم، فإنكم إن (تخفروا) (٣) ذممكم وذمم آبائكم أهون من أن (تخفروا) (٤) ذمة اللَّه وذمة رسوله ﷺ" (٥).حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو اس کے امیر کو یہ وصیت فرماتے کہ : جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو، پھر تم ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذمہ دینے کا ارادہ کرو تو ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا ذمہ مت بناؤ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اور اپنے آباؤ اجداد کے ذمہ توڑ دو یہ زیادہ آسان ہے اس بات سے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ کو توڑو۔ حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن مقرن المزنی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔