٣٥٦٢٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان (عن عاصم بن سليمان) (١) عن فضيل بن زيد الرقاشي وقد كان غزا على عهد عمر بن الخطاب سبع غزوات قال: بعث عمر جيشا فكنت في ذلك الجيش، فحاصرنا أهل (سرتاح) (٢)، فلما رأينا أنا سنفتحها من يومنا ذلك قلنا نرجع فنقيل ثم نخرج فنفتحها، فلما رجعنا تخلف (عبد) (٣) (من عبيد المسلمين) (٤) فراطنهم فراطنوه، فكتب لهم كتابا في صحيفة ثم شده في سهم فرمى به إليهم فخرجوا، فلما (رجعنا) (٥) من العشي وجدناهم قد خرجوا، قلنا لهم ما لكم؟ قال: أمنتمونا، قلنا: ما فعلنا، إنما الذي أمنكم عبد لا يقدر على شيء فارجعوا حتى نكتب إلى عمر بن الخطاب، فقالوا: ما نعرف عبدكم من حركم، ما نحن براجعين إن ⦗٤٥١⦘ شئتم فاقتلونا (وإن شئتم ففوا لنا) (٦)، قال: فكتبنا إلى عمر فكتب عمر: أن عبد المسلمين من المسلمين، ذمته ذمتهم، قال: فأجاز عمر أمانه (٧).حضرت فضیل بن زید الرقاشی رضی اللہ عنہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سات غزوات میں شریک ہوئے، فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر بھیجا تو میں بھی اس لشکر میں شریک تھا ہم نے اھل سھر یاج کا محاصرہ کرلیا، جب ہم نے دیکھا کہ آج ان کو فتح کرلیں گے، ہم نے کہا : واپس لوٹتے ہیں اور کچھ آرام کر کے تازہ دم ہو کر آ کر اس کو فتح کرلیں گے، جب ہم لوگ وہاں سے واپس لوٹے تو مسلمانوں میں ایک غلام ان کے پیچھے آیا اور اس نے ان کے ساتھ عجمی میں گفتگو کی، اور ان کو ایک صحیفہ میں امان (پناہ) لکھ کر اس کو تیر کے ساتھ باندھ کر ان کی طرف پھینک دیا۔ ہم لوگ جب واپس آئے تو ہم نے دیکھا کہ وہ لوگ قلعہ سے باہر نکلے ہوئے ہیں، ہم نے ان سے پوچھا آپ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ انہوں نے کہا : آپ لوگوں نے ہمیں امن دے دیا ہے، ہم نے کہا کہ ہم نے تو ہرگز ایسا نہیں کیا ہے، بیشک تم لوگوں کو ایک غلام نے امن دیا ہے جو خود کسی چیز پر قادر نہیں ہے، تم لوگ واپس ہوجاؤ یہاں تک کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ کر ان کی رائے دریافت کرلیں، انہوں نے کیا کہ ہم تمہارے آزاد میں تمہارے غلاموں کو نہیں جانتے ہم واپس جانے والے نہیں ہیں، اب اگر تم چاہو تو ہمیں قتل کرو اور اگر چاہو تو در گزر کردو، فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو صورت حال لکھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : مسلمانوں کا غلام بھی مسلمانوں ہی میں سے ہے، اس کا ذمہ ان کا ذمہ ہے، فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے امان کو نافذ فرما دیا۔